المستدرك على الصحيحين
كتاب الأحكام— احکام کا بیان
الصُّلْحُ جَائِزٌ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَّا مَا حَرَّمَ حَلَالًا باب: مسلمانوں کے درمیان صلح جائز ہے سوائے اس کے جو حلال کو حرام کر دے
حدیث نمبر: 7237
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن حَيَّان، حدثنا إبراهيم بن معاوية أبو إسحاق الكَرابيسي، حدثنا هشام بن يوسف، عن مَعمَر، عن الزُّهْري، عن ابن كعب بن مالك، عن أبيه: أنَّ رسول الله ﷺ حَجَرَ على معاذ بن جبل مالَه، وباعه بدَينٍ كان عليه (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7060 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا مال (قرض کی وجہ سے) روک لیا تھا، اور اسے اس قرض کی ادائیگی کے لیے فروخت کر دیا تھا جو ان کے ذمہ واجب الادا تھا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، وقد سلف مكررًا برقم (2379).
درجۂ حدیث: یہ "حسن لغیرہ" ہے، مگر یہ سند ضعیف ہے۔
حوالہ / مصدر: یہ پہلے مکرر طور پر رقم (2379) کے تحت گزر چکی ہے۔
درجۂ حدیث: یہ "حسن لغیرہ" ہے، مگر یہ سند ضعیف ہے۔
حوالہ / مصدر: یہ پہلے مکرر طور پر رقم (2379) کے تحت گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7237 سے ماخوذ ہے۔