حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني معاوية بن صالح، عن عبد الرحمن بن عائذ الأزدي، عن عمرو بن عَبَسَة السُّلمي قال: كان رسولُ الله ﷺ يَعرِضُ الخيلَ وعنده عُيَينةُ بن بدر الفَزَاري، فقال له رسول الله ﷺ: "أنا أعلمُ بالخَيْل منك"، فقال عُيينة: وأنا أعلمُ بالرِّجال منك، فقال رسولُ الله ﷺ: "فَمَن خيرُ الرِّجال؟ " قال: رِجالٌ يَحمِلون سُيوفَهم على عواتِقهم ورماحَهم على مَناسجِ خيولهم من رجال نجدٍ، فقال رسول الله ﷺ: "كذبتَ، بل خيرُ الرجال رجالُ اليمن، والإيمانُ يمانٍ إلى لَخْم وجُذَام، ومأكولُ حِميرَ خيرٌ من آكِلها، وحَضْرموتٍ خيرٌ من بني الحارث، والله ما أُبالي لو هَلَكَ الحارثانِ جميعًا، لَعَنَ الله الملوك الأربعةَ: جَمْدًا، ومِخوَسًا، ومِشرَحًا، وأَبْضَعةَ، وأختَهم العَمَرَّدة". ثم قال: "أمرَني ربِّي أن ألعَنَ قريشًا مرَّتينِ، فلعنتُهم، وأمرني أن أُصلِّيَ عليهم مرَّتين، فصلَّيتُ عليهم مرَّتين". ثم قال: "لعنَ الله تميمَ بن مُرٍّ وبكرَ بن وائل - سبعًا - ولعنَ الله قبيلتينِ من قبائل بني تَميم: مُقاعِسَ ومُلادِسَ". ثم قال: "عُصِيَّةُ عصتِ الله ورسولَه غيرَ (1) قيسٍ وجَعْدةَ وعِصْمةً". ثم قال: "أسلمُ وغِفارٌ ومُزَينةُ وأخلاطُهم (2) من جُهَينةَ خيرٌ من بني أسدٍ وتميمٍ وغَطَفانَ وهَوَازِنَ عند الله يومَ القيامة". ثم قال: "شَرُّ قبيلتينِ في العرب نَجْرانُ وبنو تَغلِبَ، وأكثرُ القبائل في الجنَّة مَذْحِج" (3)
هذا حديث غريب المتن، صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6979 - صحيح غريب
هذا حديث غريب المتن، صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6979 - صحيح غريب
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمرو بن عبسہ سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ گھوڑوں کا معائنہ فرما رہے تھے اور آپ ﷺ کے پاس عیینہ بن بدر فزاری بھی موجود تھا، رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”میں گھوڑوں کی تم سے زیادہ پہچان رکھتا ہوں“، عیینہ نے کہا: اور میں مردوں کی آپ سے زیادہ پہچان رکھتا ہوں، رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”تو پھر بہترین مرد کون ہیں؟“ اس نے کہا: وہ لوگ جو اپنی تلواریں اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے ہوں اور اپنے نیزوں کو اپنے گھوڑوں کے شانوں پر رکھے ہوئے ہوں اور ان کا تعلق اہل نجد سے ہو، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے غلط کہا، بلکہ بہترین مرد اہل یمن کے لوگ ہیں، اور ایمان تو یمنی ہے جو لخم اور جذام (قبائل) تک پھیلا ہوا ہے، اور حِمیر قبیلے کا مأکول (جس کا حق مارا جائے) اس کے آکل (حق مارنے والے) سے بہتر ہے، اور حضرموت کے لوگ بنو حارث سے بہتر ہیں، اللہ کی قسم! مجھے کوئی پرواہ نہیں اگر دونوں حارث (قبائل) ہلاک ہو جائیں، اللہ تعالیٰ چار بادشاہوں: جمد، مخوس، مشرح، ابضعہ اور ان کی بہن امرّدہ پر لعنت فرمائے۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے رب نے مجھے حکم دیا کہ میں قریش پر دو مرتبہ لعنت کروں تو میں نے ان پر لعنت کی، اور مجھے حکم دیا کہ ان کے لیے دو مرتبہ دعا (رحمت) کروں تو میں نے ان کے لیے دو مرتبہ دعا فرمائی۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تمیم بن مر اور بکر بن وائل پر لعنت کرے“ —آپ ﷺ نے یہ سات مرتبہ فرمایا— اور فرمایا: ”اللہ تعالیٰ بنو تمیم کے دو قبیلوں مقاعس اور ملادس پر لعنت فرمائے۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”عصیہ قبیلے نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ہے سوائے قیس، جعدہ اور عصمہ (خاندانوں) کے۔“ پھر فرمایا: ”اسلم، غفار، مزینہ اور ان کے ساتھ جڑے ہوئے جہینہ کے لوگ اللہ کے نزدیک قیامت کے دن بنو اسد، تمیم، غطفان اور ہوازن سے بہتر ہوں گے۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”عرب میں سب سے برے دو قبیلے نجران اور بنو تغلب ہیں، اور جنت میں سب سے زیادہ تعداد مذحج قبیلے کی ہوگی۔“
یہ حدیث متن کے لحاظ سے غریب ہے لیکن اس کی سند صحیح ہے، تاہم شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث متن کے لحاظ سے غریب ہے لیکن اس کی سند صحیح ہے، تاہم شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا عبد الله بن إسحاق الخُراساني العَدْل ببغداد، حدثنا يحيى بن جعفر، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا أبو مالك الأشجعي، عن موسى بن طلحة، عن أبي أيوب الأنصاري قال: قال رسول الله ﷺ: "أسلمُ (1) وغِفارٌ وأشجعُ ومُزَينةُ وجُهَينةُ ومن كان من بني كَعْبٍ، مواليَّ دونَ الناس، واللهُ ورسولُه مولاهم" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6980 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6980 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسلم، غفار، اشجع، مزینہ، جہینہ اور جو بنو کعب میں سے ہوں، یہ سب لوگوں کے سوا میرے مولیٰ (قریبی دوست اور جانثار) ہیں، اور اللہ اور اس کا رسول ان کے مولیٰ ہیں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔