أخبرني الأستاذ أبو الوليد، حدَّثنا الحسن بن سفيان، حدَّثنا عبد الوارث بن عبد الصمد، حدثني أبي، حدثني عبد الله بن أبي يزيد، عن موسى بن أنس، عن أنس: أنَّ الأنصار اشتدَّتْ عليهم السَّوَاني، فأتَوُا النبيَّ ﷺ ليدعوَ لهم، أو يَحفِرَ لهم نهرًا، فأُخبر النبيُّ ﷺ، فقال: "لا تسألوني اليومَ عن شيء إِلَّا أُعطِيتُم"، فلما سمعوا ما قال النبيُّ ﷺ قالوا: ادعُ الله لنا بالمغفرة، قال: "اللهمَّ اغفِرْ للأنصار، ولأبناءِ الأنصار، ولأبناءِ أبناءِ الأنصار" (1)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6975 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6975 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انصار پر «سَواني» (پانی کھینچنے والے اونٹوں کی مشقت) بہت سخت ہوگئی تھی، چنانچہ وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ آپ ان کے لیے دعا فرمائیں یا ان کے لیے کوئی نہر کھدوا دیں، نبی کریم ﷺ کو جب ان کے آنے کی خبر ملی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”آج تم مجھ سے جس چیز کا بھی سوال کرو گے وہ تمہیں عطا کر دی جائے گی“، جب انصار نے نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان سنا تو انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ سے ہمارے لیے مغفرت کی دعا فرما دیجیے، آپ ﷺ نے فرمایا: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ، وَلِأَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ، وَلِأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ» ”اے اللہ! انصار کی مغفرت فرما، اور انصار کے بیٹوں کی، اور انصار کے پوتوں کی (بھی مغفرت فرما)۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدَّثنا السَّرِي بن خُزيمة، حدَّثنا محمد بن كَثير، حدَّثنا حماد بن سَلَمة، عن ثابت، عن أنس: أنَّ رسول الله ﷺ استقبل (1) غِلمانًا من غِلمان الأنصار وإماءً وعَبيدًا، فقال: "والله إنِّي لأُحبُّكم" (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6976 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6976 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا سامنا انصار کے چند لڑکوں، لونڈیوں اور غلاموں سے ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں تم سب سے یقیناً محبت کرتا ہوں۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا الحسن بن يعقوب العدل، حدَّثنا يحيى بن أبي طالب، حدَّثنا عبد الوهاب بن عطاء، حدَّثنا سعيدٌ بن أبي عَرُوبة، عن قَتادةَ، عن أنس بن مالك قال: افتخرَ الحيَّانِ من الأنصار الأوسُ والخزرجُ، فقالتِ الأوسُ: مِنَّا مَن اهتزَّ لموته عرشُ الرحمن سعدُ بن معاذ، ومِنَّا من حَمَتْه الدَّبْرُ عاصمُ بن ثابت بن الأَقلَح، ومِنَّا مَن غسَّلته الملائكةُ حنظلةُ ابن الراهب، ومِنَّا من أُجيزت شهادتُه بشهادةِ رجلينِ خُزيمةُ بن ثابت. وقال الخزرجيُّون: مِنَّا أربعةٌ جمعوا القرآنَ لم يجمعه غيرُهم: أُبيُّ بن كعب، ومعاذُ بن جبل، وزيدُ بن ثابت، وأبو زيد (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6977 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6977 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انصار کے دو قبیلوں اوس اور خزرج نے ایک دوسرے پر فخر کیا، قبیلہ اوس والوں نے کہا: ہم میں وہ شخصیت (سعد بن معاذ) موجود ہے جس کی وفات پر رحمن کا عرش جھوم اٹھا، اور ہم میں وہ (عاصم بن ثابت بن اقلح) ہے جس کے جسدِ مبارک کی حفاظت بھڑوں «الدَّبْرُ» نے کی، اور ہم میں وہ (حنظلہ بن راہب) ہے جسے فرشتوں نے غسل دیا، اور ہم میں وہ (خزیمہ بن ثابت) ہے جس کی اکیلے کی گواہی دو مردوں کی گواہی کے برابر قرار دی گئی؛ جبکہ قبیلہ خزرج والوں نے کہا: ہم میں چار ایسی ہستیاں ہیں جنہوں نے مکمل قرآن جمع کیا اور ان کے علاوہ کسی نے اسے (اس طرح) جمع نہیں کیا: ابی بن کعب، معاذ بن جبل، زید بن ثابت اور ابوزید (رضی اللہ عنہم اجمعین)۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدَّثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني سفيان الثَّوري، عن سليمان الأعمش، عن موسى بن عبد الله بن يزيد الخَطْمي، حدَّثنا عبد الرحمن بن هِلال، عن جَرير بن عبد الله قال: قال رسول الله ﷺ: "المهاجرونَ والأنصارُ بعضُهم أولياءُ بعضٍ في الدنيا والآخرة، والطُّلقاءُ من قريشٍ والعُتَقاءُ من ثَقيفٍ، بعضُهم أولياءُ بعضٍ في الدنيا والآخرة" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ذكرُ فَضيلةِ أسلمَ وغِفارٍ ومُزَينةَ وغيرها
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6978 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ذكرُ فَضيلةِ أسلمَ وغِفارٍ ومُزَينةَ وغيرها
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6978 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مہاجرین اور انصار دنیا و آخرت میں ایک دوسرے کے رفیق و مددگار ہیں، اور فتح مکہ کے موقع پر آزاد کردہ قریشی «الطُّلَقَاءُ» اور غزوہ طائف کے موقع پر آزاد ہونے والے ثقیفی «الْعُتَقَاءُ» دنیا و آخرت میں ایک دوسرے کے رفیق و مددگار ہیں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔