أخبرنا أبو عمرو عثمان بن أحمد السَّمّاك ببغداد، حدَّثنا يحيى بن جعفر بن الزِّبْرِقان، حدَّثنا أبو داود الطَّيالسي وعبدُ الصمد بن عبد الوارث، حدَّثنا محمد بن ثابت البُناني، عن أبيه، عن أنس بن مالك، عن أبي طلحة: أنه دخل على رسولِ الله ﷺ في وَجَعِه الذي مات فيه، فقال: "أقرِئْ قومَكَ السَّلامَ، فإنهم - ما عَلِمتُ - أعِفَّةٌ صُبُرٌ" (3). صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6973 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6973 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی اس علالت کے دوران آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے جس میں آپ ﷺ کی وفات ہوئی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی قوم (انصار) کو میرا سلام پہنچانا، کیونکہ جہاں تک میرا علم ہے وہ نہایت پاکدامن اور صابر لوگ ہیں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدَّثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدَّثنا محمد بن غالب، حدَّثنا عبد الله بن عبد الوهاب، حدَّثنا عاصم بن سُوَيد، حدثني يحيى بن سعيد، عن أنس بن مالك، قال: جاءَ أُسيد بن حُضَير الأشهلي إلى رسول الله ﷺ وقد كان قَسَمَ طعامًا، فذَكَر له أهلَ بيتٍ من الأنصار من بني ظَفَرٍ فيهم حاجةٌ، قال: وجُلُّ أهل ذلك البيت نِسوةٌ، قال: فقال له رسول الله ﷺ: "تركتنا يا أُسيدُ حتى ذهبَ ما في أيدينا، فإذا سمعتَ بشيء قد جاءنا، فاذكُر لي أهلَ ذلك البيتِ"، قال: فجاءه بعدَ ذلك طعامٌ من خيبرَ (1) شعيرٌ وتمرٌ، قال: فقَسَمَ رسولُ الله ﷺ في الناس، وقَسَمَ في الأنصار فأجزلَ، وقَسَمَ في أهل ذلك البيت فأجزلَ، قال: فقال له أُسيدُ بن حُضير متشكِّرًا: جزاكَ الله أيْ نبيَّ الله عنَّا أفضلَ الجَزاء، أو قال: خيرًا، فقال النبيُّ ﷺ: "وأنتم يا معشرَ الأنصار، فجزاكم الله أطيبَ الجزاء - أو قال: خيرًا - فإنكم - ما عَلِمتُ - أعِفَّةٌ صُبُر، وسترونَ بعدي أَثَرةً في الأمر والقَسْم، فاصبِرُوا حتى تلقوني على الحَوْض" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6974 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6974 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا اسید بن حضیر اشہلی رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے پاس اس وقت آئے جب آپ ﷺ غلہ تقسیم فرما رہے تھے، انہوں نے آپ ﷺ سے انصار کے ایک خاندان بنو ظفر کا ذکر کیا جو بہت ضرورت مند تھے اور اس گھر کے اکثر افراد خواتین تھیں، رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اے اسید! تم نے ہمیں تب بتایا جب ہمارے پاس جو کچھ تھا وہ ختم ہو چکا ہے، اب جب تمہیں معلوم ہو کہ ہمارے پاس کوئی نئی چیز آئی ہے تو مجھے اس گھر والوں کے بارے میں ضرور یاد دلانا“، چنانچہ اس کے بعد خیبر سے غلہ، جو اور کھجوریں آئیں، رسول اللہ ﷺ نے وہ لوگوں میں تقسیم کیں اور انصار کو بھی بہت وافر مقدار میں دیا اور اس خاندان کو بھی بہت زیادہ عطا فرمایا، سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے شکریہ ادا کرتے ہوئے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! اللہ تعالیٰ ہماری طرف سے آپ کو بہترین جزا عطا فرمائے، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اور تم اے گروہِ انصار! اللہ تمہیں بھی پاکیزہ ترین جزا عطا فرمائے، کیونکہ جہاں تک مجھے علم ہے تم لوگ نہایت پاکدامن اور صابر ہو، اور تم میرے بعد (حکمرانی اور تقسیمِ مال کے معاملے میں) حق تلفی (اثرہ) دیکھو گے، تو تم صبر کرنا یہاں تک کہ تم حوضِ کوثر پر مجھ سے آ ملو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔