حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدَّثنا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حدَّثنا مصعب بن عبد الله الزُّبيري قال: وأمُّ قيس بنت مِحصَن بن حُرْثانَ (1) أخت عُكَّاشة بن مِحصَن، أسلمت قديمًا بمكةَ، وهاجرت إلى المدينة مع أهل بيتها، وعاشت بعد رسولِ الله ﷺ، وروت عنه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا مصعب بن عبداللہ زبیری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدہ ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا سیدنا عکاشہ بن محصن کی بہن ہیں، وہ مکہ میں قدیم الاسلام تھیں اور اپنے گھر والوں کے ساتھ مدینہ ہجرت کی، وہ رسول اللہ ﷺ کے بعد عرصہ دراز تک حیات رہیں اور آپ ﷺ سے روایات نقل کیں۔
أخبرني أبو زكريا يحيى بن محمد العَنْبري، حدَّثنا الحسين بن محمد القبَّاني، حدَّثنا محمد بن موسى الحَرَشي، حدَّثنا سَعْد (2) أبو عاصم مولى سليمان بن علي، حدَّثنا نافع، أنَّ أمَّ قيس حدَّثته: أنَّ رسول الله ﷺ خَرَجَ بها آخذًا بيدِها في سِكَّة المدينة حتى انتهى إلى البقيعِ بقيع الغَرْقد، فقال: "يا أُمَّ قيس" قلتُ: لبَّيكَ وسَعدَيكَ يا رسولَ الله، قال: "أَترَينَ هذه المَقبُرةَ؟ " قلتُ: نعم يا رسول الله، قال: "يَبعثُ الله (3) منها سبعين ألفًا يوم القيامة بصورةِ القمرِ ليلةَ البدر، يَدخُلُون الجنَّةَ بغير حسابٍ"، فقام عُكَّاشةُ فقال: وأنا يا رسول الله، قال: "وأنت"، فقام آخرُ فقال: وأنا، فقال: "سَبَقَكَ بها عُكَّاشةُ" (4). ذكرُ جُدَامةَ (1) بنت وَهْب الأسدية ﵂
حافظ طلحہ بابر
سیدہ ام قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ان کا ہاتھ تھامے ہوئے مدینہ کی ایک گلی سے گزر کر بقیع الغرقد تشریف لائے اور فرمایا: ”اے ام قیس!“ میں نے عرض کیا: میں حاضر ہوں اور آپ ﷺ کی فرماں برداری کے لیے تیار ہوں یا رسول اللہ، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم یہ قبرستان دیکھ رہی ہو؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں یا رسول اللہ، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن یہاں سے ستر ہزار ایسے لوگوں کو اٹھائے گا جن کے چہرے چودھویں کے چاند کی طرح روشن ہوں گے اور وہ بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے۔“ تب سیدنا عکاشہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: اور میں بھی یا رسول اللہ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم بھی“، پھر ایک اور صاحب کھڑے ہوئے اور وہی سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”عکاشہ تم سے سبقت لے گئے۔“