کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدہ حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا کا بیان، جو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی بہن نہیں بلکہ دوسری خاتون تھیں
أخبرنا أبو عبد الله الأصفهاني، حدَّثنا الحسن بن الجَهْم، حدَّثنا الحسين بن الفَرَج، حدَّثنا محمد بن عمر قال: وحَمْنةُ بنت جَحْش كانت عند مصعب بن عُمير فولدت له ابنَه، وقُتِلَ عنها، فتزوَّجها بعد ذلك طلحةُ بن عبيد الله، فولدت له محمدَ بن طلحة السَّجَّاد، وبه كان يُكني، وعبدَ الله بن طلحة.
حافظ طلحہ بابر
محمد بن عمر سے مروی ہے کہ سیدہ حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا (جو زینب بنت جحش کی بہن والی حمنہ کے علاوہ ہیں) سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں جن سے ان کا ایک بیٹا پیدا ہوا، مصعب کی شہادت کے بعد ان سے سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ نے نکاح کیا جن سے ان کے ہاں محمد بن طلحہ السجاد (جن کے نام پر ان کی کنیت تھی) اور عبداللہ بن طلحہ پیدا ہوئے۔
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا أبو عُتبة أحمد بن الفَرَج، حدَّثنا زيد بن يحيى بن عُبيد، حدثني الليث بن سعد، عن سعيد بن أبي سعيد المَقبُري، عن حَمْنة، أنها سمعت النبيَّ ﷺ يقول: "ألا إنَّ الدُّنيا حُلُوةٌ خَضِرةٌ، فَرُبَّ متخوِّضٍ في الدنيا من (3) مالِ الله ورسولهِ ليس له يومَ القيامة إلَّا النَّارُ" (4). ذكرُ أمِّ قيس بنت مِحصَن ﵂
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6932 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6932 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدہ حمنہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”آگاہ ہو جاؤ! بے شک یہ دنیا میٹھی اور سرسبز ہے، پس بہت سے ایسے لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کے مال میں بے جا تصرف کرتے ہیں، قیامت کے دن ان کے لیے آگ کے سوا کچھ نہ ہوگا۔“