کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی وفات کا ذکر
فحدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالويه، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حدثنا مصعب بن عبد الله الزبيري قال: كانت زينب بنت رسول الله ﷺ أسنّ بناته، وكان سبب وفاتها أنَّها لما أُخرجت من مكة إلى رسول الله ﷺ أدركها هبَّارُ بن الأسود ورجلٌ آخر، فدفعها أحدهما فيما قيل، فسقطت على صخرةٍ، فأسقطت حَمْلَها إذ كانت حاملةً، فأهراقَتِ الدَّمَ، فلم يزل بها وجعُها حتى ماتت منها.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6839 - حذفه الذهبي من التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا مصعب بن عبداللہ زبیری سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سیدہ زینب رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کی سب سے بڑی صاحبزادی تھیں، اور ان کی وفات کا سبب یہ بنا کہ جب وہ مکہ سے رسول اللہ ﷺ کی طرف ہجرت کے لیے نکلیں تو ہبار بن اسود اور ایک دوسرے شخص نے انہیں جا لیا، ان میں سے ایک نے انہیں دھکا دیا جس سے وہ ایک چٹان پر گر گئیں، وہ حاملہ تھیں اس لیے ان کا حمل ساقط ہو گیا اور خون بہنے لگا، وہ مسلسل اسی تکلیف میں مبتلا رہیں یہاں تک کہ اسی بیماری سے ان کا انتقال ہو گیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 7011
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 7011] [ترقيم الشركة 6932] [ترقيم العلميه 6839]
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بكير، عن ابن إسحاق، حدثنا يحيى بن عباد بن عبد الله بن الزبير، عن أبيه، عن عائشة قالت: لما بعث أهل مكة في فداء أساراهم بعثت زينب بنتُ رسولِ الله ﷺ في فداء أبي العاص بقلادة، وكانت خديجة أدخلتها بها على أبي العاص حين بَنَى عليها، فلما رآها رسول الله ﷺ رَقَّ لها رِقَّةً شديدة، وقال: "إن رأيتُم أن تُطلِقوا لها أسيرها، وتردُّوا عليها الذي لها" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6840 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب اہل مکہ نے اپنے قیدیوں کا فدیہ بھیجا تو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر ابوالعاص کے فدیے میں وہ ہار (قلادہ) بھیجا جو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے انہیں ان کی رخصتی کے وقت دیا تھا، جب رسول اللہ ﷺ نے اسے دیکھا تو آپ ﷺ پر انتہائی رقت طاری ہو گئی اور آپ ﷺ نے (صحابہ سے) فرمایا: ”اگر تم مناسب سمجھو تو زینب کے قیدی کو رہا کر دو اور اس کا مال (وہ ہار) اسے واپس کر دو۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 7012
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن من أجل ابن إسحاق: وهو محمد بن إسحاق بن يسار. وهو مكرر (4352).» [ترقيم الرساله 7012] [ترقيم الشركة 6933] [ترقيم العلميه 6840]