المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
أَشْعَارُ أَبِي الْعَاصِ فِي مَدْحِ زَيْنَبَ باب: سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی مدح و تعریف میں ابو العاص (بن ربیع) کے اشعار
حدیث نمبر: 7010
قال محمد بن عمر: وأخبرني هشام بن محمد الكَلْبي، قال: أخبرني أبي، عن أبي صالح (1)، عن ابن عبّاس قال: كان أسنَّ ولدِ رسول الله ﷺ القاسم، ثم زينبُ، فتزوّج زينب أبو العاص بن الربيع، فولدت له عليًا وأمامة، وفيها يقول أبو العاص: ذكرتُ زينب لمَّا وَرَّكَتْ (2) إِرَمَا … فقلتُ: سَقْيًا لشخصٍ يسكنُ الحَرَما بنتُ الأمين جزاها الله صالحة … وكلُّ بَعْلٍ سيُثْني بالذي عَلِما (3)
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ کی اولاد میں سب سے بڑے قاسم تھے اور ان کے بعد زینب تھیں، سیدہ زینب کا نکاح ابوالعاص بن ربیع سے ہوا جن سے ان کے ہاں علی اور امامہ پیدا ہوئے، اور ابوالعاص نے سیدہ زینب کی شان میں یہ اشعار کہے: ”جب ارم کے مقام پر زینب کو کجاوے پر سوار دیکھا تو مجھے وہ یاد آگئیں، میں نے دعا کی کہ اللہ اس ہستی کو سیراب رکھے جو حرم میں مقیم ہے، وہ امین (ﷺ) کی بیٹی ہیں اللہ انہیں بہترین جزا دے، اور ہر شوہر اپنی بیوی کی انہی خوبیوں کی تعریف کرتا ہے جو اس کے علم میں ہوتی ہیں۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) في (ز) و (ب): عن صالح، وسقط من (م)، وفي (ص): قال أخبرني عن ابن عباس. والمثبت من "طبقات ابن سعد" 3/ 6.
نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) اور (ب) میں "عن صالح" ہے، نسخہ (م) سے ساقط ہے، اور (ص) میں "قال أخبرني عن ابن عباس" ہے۔ درست متن "طبقات ابن سعد" (3/ 6) سے لیا گیا ہے۔
(2) تحرَّف في النسخ إلى: ورثت، والمثبت من "طبقات ابن سعد" 5/ 7 و 10/ 32.
نوٹ / توضیح: نسخوں میں تحریف ہو کر "ورثت" بن گیا ہے، درست متن "طبقات ابن سعد" (5/ 7 اور 10/ 32) سے لیا گیا ہے۔
(3) إسناده تالف، مسلسل بالهلكي. أبو صالح: هو باذام مولى أم هانئ، وهو ضعيف.
درجۂ حدیث: اس کی سند "تالف" (تباہ شدہ / سخت ضعیف) ہے اور یہ "مسلسل بالہلکیٰ" (جس میں سب راوی ہلاک شدہ ہوں) ہے۔
فنی نکتہ / علّت: "ابو صالح" سے مراد باذام مولیٰ ام ہانی ہے، اور وہ "ضعیف" ہے۔
نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) اور (ب) میں "عن صالح" ہے، نسخہ (م) سے ساقط ہے، اور (ص) میں "قال أخبرني عن ابن عباس" ہے۔ درست متن "طبقات ابن سعد" (3/ 6) سے لیا گیا ہے۔
(2) تحرَّف في النسخ إلى: ورثت، والمثبت من "طبقات ابن سعد" 5/ 7 و 10/ 32.
نوٹ / توضیح: نسخوں میں تحریف ہو کر "ورثت" بن گیا ہے، درست متن "طبقات ابن سعد" (5/ 7 اور 10/ 32) سے لیا گیا ہے۔
(3) إسناده تالف، مسلسل بالهلكي. أبو صالح: هو باذام مولى أم هانئ، وهو ضعيف.
درجۂ حدیث: اس کی سند "تالف" (تباہ شدہ / سخت ضعیف) ہے اور یہ "مسلسل بالہلکیٰ" (جس میں سب راوی ہلاک شدہ ہوں) ہے۔
فنی نکتہ / علّت: "ابو صالح" سے مراد باذام مولیٰ ام ہانی ہے، اور وہ "ضعیف" ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7010 سے ماخوذ ہے۔