المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
وَفَاةُ زَيْنَبَ باب: سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی وفات کا ذکر
حدیث نمبر: 7012
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بكير، عن ابن إسحاق، حدثنا يحيى بن عباد بن عبد الله بن الزبير، عن أبيه، عن عائشة قالت: لما بعث أهل مكة في فداء أساراهم بعثت زينب بنتُ رسولِ الله ﷺ في فداء أبي العاص بقلادة، وكانت خديجة أدخلتها بها على أبي العاص حين بَنَى عليها، فلما رآها رسول الله ﷺ رَقَّ لها رِقَّةً شديدة، وقال: "إن رأيتُم أن تُطلِقوا لها أسيرها، وتردُّوا عليها الذي لها" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6840 - على شرط مسلمحافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب اہل مکہ نے اپنے قیدیوں کا فدیہ بھیجا تو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر ابوالعاص کے فدیے میں وہ ہار (قلادہ) بھیجا جو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے انہیں ان کی رخصتی کے وقت دیا تھا، جب رسول اللہ ﷺ نے اسے دیکھا تو آپ ﷺ پر انتہائی رقت طاری ہو گئی اور آپ ﷺ نے (صحابہ سے) فرمایا: ”اگر تم مناسب سمجھو تو زینب کے قیدی کو رہا کر دو اور اس کا مال (وہ ہار) اسے واپس کر دو۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده حسن من أجل ابن إسحاق: وهو محمد بن إسحاق بن يسار. وهو مكرر (4352).
درجۂ حدیث: ابن اسحاق (محمد بن اسحاق بن یسار) کی وجہ سے اس کی سند "حسن" ہے۔
نوٹ / توضیح: یہ روایت نمبر (4352) پر مکرر ہے۔
درجۂ حدیث: ابن اسحاق (محمد بن اسحاق بن یسار) کی وجہ سے اس کی سند "حسن" ہے۔
نوٹ / توضیح: یہ روایت نمبر (4352) پر مکرر ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7012 سے ماخوذ ہے۔