کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کا اسی مقام پر انتقال جہاں نبی کریم ﷺ نے ان سے نکاح کیا تھا
أخبرني إسماعيل بن محمد بن الفضل بن محمد الشعراني، حدثنا جَدِّي، حدثنا إبراهيم بن المنذر الحزامي، حدثنا محمد بن فليح، عن موسى بن عقبة، عن ابن شهاب قال: خرج رسول الله ﷺ من العام القابل عامَ الحديبية مُعتمِرًا في ذي القعدة سنة سبع، وهو الشهر الذي صده فيه المشركون عن المسجد الحرام، حتى إذا بلغ يأجَجَ بعث جعفر بن أبي طالب بين يديه إلى ميمونة بنت الحارث بن حَزْن العامرية، فخطبها عليه، فجعلت أمرها إلى العباس بن عبد المطلب، وكانت أختها أم الفضل تحته، فزوجها العباس رسول الله ﷺ، فأقام النَّبيُّ ﷺ بسَرِفَ حتى قدمت ميمونةُ، فبنى بها بسَرِفَ، وقدَّر الله تعالى أن يكون موتُ ميمونة بنت الحارث بسرف بعد ذلك بحين، فتوفِّيَت حيث بَنَى بها رسول الله ﷺ (1).
حافظ طلحہ بابر
ابن شہاب زہری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ صلح حدیبیہ کے اگلے سال سنہ 7 ہجری میں ذوالقعدہ کے مہینے میں عمرہ ادا کرنے کے لیے نکلے، یہ وہی مہینہ تھا جس میں مشرکین نے آپ ﷺ کو مسجد حرام سے روک دیا تھا، جب آپ ﷺ مقامِ یاجج پہنچے تو آپ ﷺ نے سیدنا جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو سیدہ میمونہ بنت حارث کی طرف نکاح کا پیغام دے کر بھیجا، انہوں نے اپنا معاملہ سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے سپرد کر دیا جبکہ ان کی بہن ام الفضل سیدنا عباس کے نکاح میں تھیں، چنانچہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے ان کا نکاح پڑھا دیا، نبی کریم ﷺ مقامِ سرف پر ٹھہرے رہے یہاں تک کہ سیدہ میمونہ تشریف لائیں اور آپ ﷺ نے سرف ہی کے مقام پر ان کی رخصتی فرمائی، اور اللہ تعالیٰ کی تقدیر دیکھیں کہ ایک طویل عرصے کے بعد سیدہ میمونہ کی وفات بھی مقامِ سرف ہی پر ہوئی، گویا ان کی وفات اسی مقام پر ہوئی جہاں رسول اللہ ﷺ نے ان کے ساتھ پہلی شب گزاری تھی۔
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بكير، عن ابن إسحاق، حدثني ابن أبي نجيح، عن عطاء ومجاهد، عن ابن عباس: أنَّ رسول الله ﷺ تزوّج ميمونة بنت الحارث وأقام بمكة ثلاثًا، فأتاه حُويطِب بن عبد العُزَّى في نَفَرٍ من قريش في اليوم الثالث، فقالوا له: إنه قد انقضي أجلك فاخرج عنا، قال: "وما عليكم لو تركتموني فأعرَستُ بين أظهركم فصنعتُ لكم طعامًا فحضرتموه"، قالوا: لا حاجة لنا في طعامك، فاخرُجْ عنَّا، فخرج بميمونة بنت الحارث حتى أعرَسَ بها بسَرِفَ (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وممّا يُتعَجَّب من قضاء الله وقدره أنَّ رسول الله ﷺ بَنَى بميمونة بنت الحارث بسَرِفَ، وردَّها إلى المدينة عند مُنصَرَفه من عُمرة القضاء، وبقيت عنده إلى أن خرج رسول الله ﷺ لفتح مكة، وقد أخرجها معه إلى أن فتح الطائف وانصرف راجعًا إلى المدينة، فماتت ميمونة بسَرِفَ في الموضع الذي بَنَى بها رسول الله ﷺ عند تزويجها.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6796 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وممّا يُتعَجَّب من قضاء الله وقدره أنَّ رسول الله ﷺ بَنَى بميمونة بنت الحارث بسَرِفَ، وردَّها إلى المدينة عند مُنصَرَفه من عُمرة القضاء، وبقيت عنده إلى أن خرج رسول الله ﷺ لفتح مكة، وقد أخرجها معه إلى أن فتح الطائف وانصرف راجعًا إلى المدينة، فماتت ميمونة بسَرِفَ في الموضع الذي بَنَى بها رسول الله ﷺ عند تزويجها.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6796 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدہ میمونہ بنت حارث سے نکاح فرمایا اور مکہ میں تین دن قیام کیا، تیسرے دن حویطب بن عبدالعزیٰ قریش کے چند افراد کے ساتھ حاضر ہوئے اور کہنے لگے: ”آپ کی مہلت ختم ہو گئی ہے لہٰذا اب ہمارے شہر سے نکل جائیے“، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارا کیا حرج ہے اگر تم مجھے یہاں رہنے دو تاکہ میں تمہارے درمیان ہی رخصتی کی تقریب کروں اور تمہارے لیے کھانا تیار کروں جس میں تم بھی شریک ہو؟“ انہوں نے کہا: ”ہمیں آپ کے کھانے کی کوئی ضرورت نہیں، آپ یہاں سے نکل جائیے“، چنانچہ آپ ﷺ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کو لے کر نکلے یہاں تک کہ مقامِ سرف پر ان کی رخصتی فرمائی۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اللہ کی قضا و قدر سے یہ بات تعجب خیز ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ مقامِ سرف پر خلوت فرمائی اور عمرہ قضا سے واپسی پر انہیں مدینہ لے گئے، وہ آپ ﷺ کے نکاح میں رہیں یہاں تک کہ آپ ﷺ فتح مکہ کے لیے نکلے، آپ ﷺ انہیں ساتھ لے کر گئے یہاں تک کہ طائف فتح ہوا اور آپ مدینہ واپس آئے، پھر بعد میں سیدہ میمونہ کی وفات اسی مقامِ سرف پر ہوئی جہاں نکاح کے وقت رسول اللہ ﷺ نے ان سے پہلی شب گزاری تھی۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اللہ کی قضا و قدر سے یہ بات تعجب خیز ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ مقامِ سرف پر خلوت فرمائی اور عمرہ قضا سے واپسی پر انہیں مدینہ لے گئے، وہ آپ ﷺ کے نکاح میں رہیں یہاں تک کہ آپ ﷺ فتح مکہ کے لیے نکلے، آپ ﷺ انہیں ساتھ لے کر گئے یہاں تک کہ طائف فتح ہوا اور آپ مدینہ واپس آئے، پھر بعد میں سیدہ میمونہ کی وفات اسی مقامِ سرف پر ہوئی جہاں نکاح کے وقت رسول اللہ ﷺ نے ان سے پہلی شب گزاری تھی۔