حدثنا أبو عبد الله الأصبهاني، حدثنا الحسن بن الجهم، حدثنا الحسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر قال: ميمونة بنت الحارث بن حَماطة بن جُرَش، وهي خالة عبد الله بن عبّاس، وأختُ أمّ الفضل بنت الحارث، كانت تزوّجت في الجاهلية مسعود بن عمرو بن عُمير الثقفي، ثم فارقها فخَلَف عليها أبو رُهم بن عبد العُزَّى بن أبي قيس من بني مالك بن حِسْل بن عامر بن لؤي، فتُوفِّي عنها، فتزوجها رسول الله ﷺ، زوَّجَها إياه العبّاس بن عبد المطلب، وكان يلي أمرها، تزوجها رسول الله ﷺ بسرف على عشرة أميال من مكة، وكانت آخر امرأة تزوجها رسول الله ﷺ، وذلك سنة سبع في عُمرة القضية.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6792 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6792 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
محمد بن عمر سے روایت ہے کہ میمونہ بنت حارث بن حماطہ بن جرش، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی خالہ اور ام الفضل بنت حارث کی بہن تھیں، جاہلیت میں ان کا نکاح مسعود بن عمرو بن عمیر ثقفی سے ہوا تھا، پھر ان سے علیحدگی کے بعد بنو مالک بن حسل کے ابو رُہم بن عبدالعزیٰ ان کے نکاح میں آئے، جن کی وفات کے بعد رسول اللہ ﷺ نے ان سے نکاح فرمایا، ان کا نکاح سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے پڑھایا جو ان کے معاملات کے نگران تھے، رسول اللہ ﷺ نے ان سے مکہ سے دس میل دور مقامِ سرف پر نکاح فرمایا، اور وہ آخری خاتون تھیں جن سے رسول اللہ ﷺ نے نکاح فرمایا، اور یہ سنہ 7 ہجری میں عمرہ قضا کے موقع پر ہوا تھا۔
قال ابن عمر: وتُوفِّيَت ميمونة ﵂ سنة إحدى وستين، وهي آخرُ من مات من أزواج النَّبيِّ ﷺ، وكان لها يومَ تُوفِّيَت ثمانون أو إحدى وثمانون سنة، وكانت على كبر سِنَّها جَلْدةً.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی وفات سنہ 61 ہجری میں ہوئی اور وہ رسول اللہ ﷺ کی ازواج مطہرات میں سب سے آخر میں وفات پانے والی خاتون تھیں، اپنی وفات کے وقت ان کی عمر اسی یا اکیاسی سال تھی اور وہ اس کبر سنی کے باوجود کافی چاق و چوبند اور مضبوط تھیں۔
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، حدثنا محمد بن غالب، حدثنا عمرو بن مرزوق، حدثنا شُعبة، عن عطاء بن أبي ميمونة، عن أبي رافع، عن أبي هريرة قال: كان اسم ميمونةَ برَّةَ، فسماها رسول الله ﷺ ميمونة (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد رُوي بإسناد صحيح له شاهد:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6793 - قال الذهبي صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد رُوي بإسناد صحيح له شاهد:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6793 - قال الذهبي صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ میمونہ کا نام پہلے ”برہ“ تھا تو رسول اللہ ﷺ نے ان کا نام تبدیل کر کے ”میمونہ“ رکھ دیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کی ایک صحیح سند ہے جس کا ایک شاہد بھی موجود ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کی ایک صحیح سند ہے جس کا ایک شاہد بھی موجود ہے۔
أخبرناه أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عُبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن محمد بن عبد الرحمن قال: سمعتُ كُريبًا أبا رِشدِين يُحدِّثُ عن ابن عباس قال: كان اسم ميمونة بَرَّةَ، فسماها رسول الله ﷺ ميمونة (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6794 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6794 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدہ میمونہ کا نام پہلے ”برہ“ تھا تو رسول اللہ ﷺ نے ان کا نام تبدیل کر کے ”میمونہ“ رکھ دیا۔