حدیث نمبر: 6958
حدثني بكير بن أحمد بن سَهْل الصُّوفي بمكة، وكتبه لى بخطِّه، حدثنا الحسن بن علي بن شبيب المعمري، حدثنا أبو ثَوْر إبراهيم بن خالد الكلبي، حدثنا أبو قَطَن قال: قال لي شُعبة: قال لي مِسعَر بن كِدام: جدَّتي (1) زوجُ رسول الله ﷺ ميمونة بنت الحارث، وما أخبرت بهذا أحدًا قبلك. وهي ميمونة بنت الحارث بن حَزْن بن بُجَير بن الهُزم بن رُويبة بن عبد الله بن هلال بن عامر بن صعصعة، وأمها هند بنت عوف بن زُهير بن الحارث بن حماطة بن جُرَش من حِمْيَر.
حافظ طلحہ بابر

بکیر بن احمد صوفی نے مکہ میں مجھ سے اپنی تحریر میں بیان کیا کہ حسن بن علی معمری نے ہمیں حدیث بیان کی، وہ کہتے ہیں کہ ابوثور ابراہیم بن خالد کلبی نے ہمیں بتایا، وہ کہتے ہیں کہ ابوقطن نے ہمیں بتایا، انہوں نے کہا: شعبہ نے مجھ سے کہا کہ مسعر بن کدام نے مجھ سے کہا: ”رسول اللہ ﷺ کی زوجہ ميمونہ بنت حارث میری دادی ہیں“، اور میں نے آپ سے پہلے کسی کو یہ نہیں بتایا۔ وہ میمونہ بنت حارث بن حزن بن بجیر بن الہزم بن رویبہ بن عبداللہ بن ہلال بن عامر بن صعصہ ہیں، اور ان کی والدہ ہند بنت عوف بن زہیر بن حارث بن حماطہ بن جرش ہیں جن کا تعلق قبیلہ حمیر سے ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6958
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 6958] [ترقيم الشركة 6878]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) تحرّف في النسخ الخطية إلى: حدثتني، والتصويب من مصدر التخريج.
فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ لفظ تحریف ہو کر "حدثتنی" (مؤنث کا صیغہ) بن گیا تھا، جس کی تصحیح تخریج کے ماخذ سے کی گئی ہے۔
وأخرجه أبو بكر البزاز في "حديث شعبة" (103) عن عبد الله بن أحمد قال: أخبرت عن أبي قطن، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابوبکر بزار نے "حدیث شعبہ" (103) میں عبداللہ بن احمد کے واسطے سے روایت کیا، وہ کہتے ہیں: مجھے ابو قطن کی طرف سے اسی سند کے ساتھ خبر دی گئی۔
ومسعر يلتقي نسبه بنسب أم المؤمنين ميمونة في هلال بن عامر بن صعصعة، فهذا مراده أنها جدته.
اہم نکتہ: (راوی) مسعر کا نسب ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے نسب سے ہلال بن عامر بن صعصعہ پر جا کر ملتا ہے، اسی لیے ان کا اپنی "دادی" (جدّہ) کہنے سے مراد یہی (خاندانی رشتہ) ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6958 سے ماخوذ ہے۔