کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدہ زینب رضی اللہ عنہا اپنی کثرتِ صدقات کی وجہ سے مسکینوں کا ٹھکانہ (مأویٰ) تھیں
قال: وحدثني عمر بن عثمان الجَحْشي، عن أبيه قال: ما تركَتْ زينبُ بنتُ جَحْش دينارًا ولا درهمًا، كانت تتصدَّقُ بكلِّ ما قَدَرَت عليه، وكانت مأوى المساكين، وتركت منزلَها، فباعوه من الوليد بن عبد الملك حين هَدَمَ المسجدَ بخمسين ألفَ درهم (2).
حافظ طلحہ بابر
عمر بن عثمان جحشی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا نے اپنے پیچھے کوئی دینار یا درہم نہیں چھوڑا، وہ جو کچھ بھی پاتیں اسے صدقہ کر دیتیں، وہ مسکینوں کی جائے پناہ تھیں، انہوں نے اپنا مکان چھوڑا جسے ان کے ورثاء نے ولید بن عبدالملک کے ہاتھ اس وقت پچاس ہزار درہم میں فروخت کیا جب مسجد (نبوی) کی توسیع کی جا رہی تھی۔
قال: وحدثني عمر بن عثمان الجَحْشي، عن إبراهيم بن عبد الله بن محمد الجَحْشيّ، عن أبيه قال: سُئلت أمُّ عُكاشة بن مِحصَن: كم بلغت زينبُ بنتُ جَحْش يومَ تُوفِّيت؟ فقالت: قدمنا المدينةَ للهجرة وهي بنتُ بضع وثلاثين، وتُوفِّيت سنةَ عشرين. قال عمر بن عثمان: كان أبي يقول: تُوفِّيت زينب بنت جحش وهي ابنةُ ثلاثٍ وخمسين (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6775 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6775 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
عمر بن عثمان جحشی سے روایت ہے، وہ ابراہیم بن عبداللہ بن محمد جحشی سے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کی والدہ سے پوچھا گیا: سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کی وفات کے وقت عمر کتنی تھی؟ انہوں نے بتایا: ”جب ہم ہجرت کر کے مدینہ آئے تو ان کی عمر تیس سال سے کچھ اوپر تھی، اور ان کی وفات بیس ہجری میں ہوئی“۔ عمر بن عثمان کہتے ہیں کہ میرے والد فرمایا کرتے تھے: ”سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کی جب وفات ہوئی تو وہ ترپن (53) سال کی تھیں۔“