المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
كَانَتْ زَيْنَبُ مَأْوَى الْمَسَاكِينِ لِكَثْرَةِ صَدَقَاتِهَا باب: سیدہ زینب رضی اللہ عنہا اپنی کثرتِ صدقات کی وجہ سے مسکینوں کا ٹھکانہ (مأویٰ) تھیں
حدیث نمبر: 6937
قال: وحدثني عمر بن عثمان الجَحْشي، عن أبيه قال: ما تركَتْ زينبُ بنتُ جَحْش دينارًا ولا درهمًا، كانت تتصدَّقُ بكلِّ ما قَدَرَت عليه، وكانت مأوى المساكين، وتركت منزلَها، فباعوه من الوليد بن عبد الملك حين هَدَمَ المسجدَ بخمسين ألفَ درهم (2).
حافظ طلحہ بابر
عمر بن عثمان جحشی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا نے اپنے پیچھے کوئی دینار یا درہم نہیں چھوڑا، وہ جو کچھ بھی پاتیں اسے صدقہ کر دیتیں، وہ مسکینوں کی جائے پناہ تھیں، انہوں نے اپنا مکان چھوڑا جسے ان کے ورثاء نے ولید بن عبدالملک کے ہاتھ اس وقت پچاس ہزار درہم میں فروخت کیا جب مسجد (نبوی) کی توسیع کی جا رہی تھی۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) وأخرجه ابن سعد في "الطبقات" 10/ 111 - ومن طريقه الطبري في "تاريخه" 11/ 608. عن الواقديّ، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اور اسے ابن سعد (10/ 111) اور طبری (11/ 608) نے واقدی کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
حوالہ / مصدر: اور اسے ابن سعد (10/ 111) اور طبری (11/ 608) نے واقدی کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6937 سے ماخوذ ہے۔