حدیث نمبر: 6938
قال: وحدثني عمر بن عثمان الجَحْشي، عن إبراهيم بن عبد الله بن محمد الجَحْشيّ، عن أبيه قال: سُئلت أمُّ عُكاشة بن مِحصَن: كم بلغت زينبُ بنتُ جَحْش يومَ تُوفِّيت؟ فقالت: قدمنا المدينةَ للهجرة وهي بنتُ بضع وثلاثين، وتُوفِّيت سنةَ عشرين. قال عمر بن عثمان: كان أبي يقول: تُوفِّيت زينب بنت جحش وهي ابنةُ ثلاثٍ وخمسين (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6775 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر

عمر بن عثمان جحشی سے روایت ہے، وہ ابراہیم بن عبداللہ بن محمد جحشی سے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کی والدہ سے پوچھا گیا: سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کی وفات کے وقت عمر کتنی تھی؟ انہوں نے بتایا: ”جب ہم ہجرت کر کے مدینہ آئے تو ان کی عمر تیس سال سے کچھ اوپر تھی، اور ان کی وفات بیس ہجری میں ہوئی“۔ عمر بن عثمان کہتے ہیں کہ میرے والد فرمایا کرتے تھے: ”سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کی جب وفات ہوئی تو وہ ترپن (53) سال کی تھیں۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6938
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف بمرَّة
تخریج حدیث «إسناده ضعيف بمرَّة، من فوق الواقديّ لم نتبيَّنهم. وأخرجه ابن سعد في "الطبقات" 10/ 111» [ترقيم الرساله 6938] [ترقيم الشركة 6858] [ترقيم العلميه 6775]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) إسناده ضعيف بمرَّة، من فوق الواقديّ لم نتبيَّنهم. وأخرجه ابن سعد في "الطبقات" 10/ 111 - ومن طريقه الطبري في "تاريخه" 11/ 608 - عن الواقديّ، بهذا الإسناد.
درجۂ حدیث: یہ سند یکسر "ضعیف" ہے، واقدی سے اوپر کے راوی واضح نہیں ہیں۔
حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد (10/ 111) اور طبری (11/ 608) نے واقدی کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6938 سے ماخوذ ہے۔