کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: رسول اللہ ﷺ کا غزوۂ احد سے پہلے (سیدہ) حفصہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کرنے کا تذکرہ
قال ابن عمر: وحدثني أبو بكر بن عبد الله بن أبي سَبْرة، عن حسين بن أبي حسين قال: تزوّج رسولُ الله ﷺ حفصةَ في شعبان على رأس ثلاثين شهرًا قبلَ أُحد (2).
حافظ طلحہ بابر
حسین بن ابی حسین سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے شعبان کے مہینے میں نکاح فرمایا، اور یہ غزوہ احد سے تیس ماہ پہلے کی بات ہے۔
قال ابن عمر: حَدَّثَنَا مَعمَر، عن الزُّهْري، عن سالم، عن أبيه، قال: تُوفِّيت حفصةُ في شعبان سنةَ خمسٍ وأربعين، فصلَّى عليها مروانُ بن الحَكَم وهو يومئذٍ عاملُ المدينة (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کی وفات پینتالیس ہجری کے ماہ شعبان میں ہوئی، اور ان کی نماز جنازہ مروان بن حکم نے پڑھائی جو ان دنوں مدینہ کا گورنر تھا۔
قال ابن عمر: فحدثني علي بن مُسلم [عن] (2) المَقبُري، عن أبيه قال: رأيتُ مروانَ حَمَلَ بين عمودَيْ سريرِ حفصةَ من عند دار آلِ حَزْم إلى دار المغيرة بن شُعبة، وحملَها أبو هريرة من دارِ المغيرة إلى قبرها (3).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے مروان کو دیکھا کہ اس نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے جنازے کی چارپائی کو آل حزم کے گھر سے لے کر مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے گھر تک دونوں بازوؤں کے درمیان سے اٹھایا ہوا تھا، اور پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ انہیں مغیرہ کے گھر سے ان کی قبر تک اٹھا کر لے گئے۔
قال ابن عمر: وحدثني عبد الله بن نافع قال: نزَلَ في قبر حفصةَ عبدُ الله وعاصمٌ ابنا عمر، وسالمٌ وعبد الله وحمزة بنو عبد الله بن عمر (4).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کی قبر میں (تدفین کے لیے) عبداللہ اور عاصم جو کہ عمر رضی اللہ عنہ کے بیٹے ہیں، اور سالم، عبداللہ اور حمزہ جو کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بیٹے ہیں، اترے۔