حَدَّثَنَا علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حَدَّثَنَا هشام بن علي السَّدوسي، حَدَّثَنَا موسى بن إسماعيل، حَدَّثَنَا حماد بن سَلَمة، عن علي بن زيد، عن سعيد بن المسيّب قال: آمَتْ حفصةُ بنت عمر بن الخطاب من زوجِها، وآمَ عثمانُ من رُقيَّة، فمرَّ عمرُ بعثمان فقال: هل لك في حفصة؟ فلم يُحِرْ إليه شيئًا، فأتى عمر النَّبِيّ ﷺ فقال: ألم تَرَ إلى عثمانَ، عرضتُ عليه حفصةَ فأعرضَ عنّي ولم يُحِرْ إليَّ شيئًا، فقال النَّبِيُّ ﷺ: "فخيرٌ من ذلك، أتزوَّجُ أنا حفصة، وأُزوِّجُ عثمانَ أمَّ كُلثوم"، فتزوَّج النَّبِيُّ ﷺ حفصةَ، وزوج عثمانَ أُمَّ كُلثوم بنت رسولِ الله ﷺ (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6751 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6751 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا اپنے شوہر کی وفات سے بیوہ ہو گئیں، اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی زوجہ سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا وفات پا گئیں، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا گزر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا تو انہوں نے پوچھا: ”کیا تمہیں حفصہ سے نکاح میں دلچسپی ہے؟“ مگر انہوں نے کوئی جواب نہ دیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ”کیا آپ نے عثمان کو نہیں دیکھا؟ میں نے ان کے سامنے حفصہ کی پیشکش کی تو انہوں نے مجھ سے اعراض کیا اور کوئی جواب نہیں دیا۔“ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اس سے بہتر صورت ہو گی، میں حفصہ سے نکاح کروں گا اور عثمان کا نکاح ام کلثوم سے کر دوں گا۔“ چنانچہ نبی کریم ﷺ نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرما لیا اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا نکاح رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا سے کر دیا۔
فحدَّثني أبو عبد الله الأصبهاني، حَدَّثَنَا الحسن بن الجَهْم، حَدَّثَنَا الحسين بن الفَرَج، حَدَّثَنَا محمد بن عمر، أنَّ أسامة بن زيد بن أسلم حدثه عن أبيه، عن جده، عن عمر قال: وُلدت حفصةُ وقريشٌ تبني البيتَ قبل مبعثِ النَّبِيِّ ﷺ بخمس سنين (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کی ولادت اس وقت ہوئی جب قریش بیت اللہ (کعبہ) کی تعمیر کر رہے تھے، اور یہ نبی کریم ﷺ کی بعثت سے پانچ سال پہلے کا واقعہ ہے۔