کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا ابو لبابہ بن عبد المنذر رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر
أخبرنا أبو جعفر البغدادي، حدثنا أبو عُلاثة، حدثنا أبي، حدثنا ابن لَهِيعة، حدثنا أبو الأسود، عن عُرْوة بن الزُّبير: أنَّ أبا لُبابةَ بشيرَ بن عبد المنذر والحارثَ بن حاطب خرجا إلى رسول الله ﷺ، وخرجا معه إلى بدرٍ فرَجَعَهما، وأَمَّر أبا لُبابة على المدينة، وضرَبَ لهما بسهمينِ مع أصحاب بدرٍ (1).
حافظ طلحہ بابر
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ ابو لبابة بشیر بن عبدالمنذر اور حارث بن حاطب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بدر کی طرف روانہ ہوئے تھے مگر آپ ﷺ نے ان دونوں کو (راستے سے) واپس بھیج دیا، اور ابولبابہ رضی اللہ عنہ کو مدینہ پر امیر مقرر فرمایا، اور ان دونوں کے لیے اہل بدر کے ساتھ (مالِ غنیمت میں سے) باقاعدہ حصہ مقرر فرمایا۔
أخبرنا أبو العبّاس القاسم بن القاسم السيَّاري بمَرْو، حدثنا عبد الله ابن علي الغزَّال (2) [حدثنا علي بن الحسن بن شقيق] حدثنا عبد الله بن المبارك، أخبرني محمد بن أبي حفصة، عن الزُّهْري، عن الحُسين بن السائب بن (3) أبي لُبابة، عن أبيه قال: لما تاب الله على أبي لُبابة، قال أبو لُبابة: جئتُ رسولَ الله ﷺ فقلتُ: يا رسولَ الله، إني أهجُرُ دارَ قومي التي أصبتُ بها الذنبَ، وأنخلعُ من مالي صدقةً الله ﷿ ولرسولِه، فقال رسولُ الله ﷺ: "يا أبا لُبابة، يُجزِئُ عنك الثُّلثُ"، قال: فتصدقتُ بالثُّلث (4). ذكرُ أبي حَبَّة البَدْري ﵁-
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6658 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6658 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابولبابہ رضی اللہ عنہ کے پوتے حسین بن سائب اپنے والد (سائب) سے اور وہ اپنے والد (سیدنا ابولبابہ) سے روایت کرتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے ابولبابہ کی توبہ قبول فرما لی تو انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں اپنی اس قوم کا گھر چھوڑ دوں گا جہاں مجھ سے گناہ سرزد ہوا تھا اور اپنا سارا مال اللہ اور اس کے رسول کے لیے صدقہ کر دوں گا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابولبابہ! تمہاری طرف سے تہائی مال (صدقہ کرنا) کافی ہے۔“ چنانچہ میں نے اپنے مال کا تہائی حصہ صدقہ کر دیا۔
یہ حدیث صحیحین کے معیار پر ہے، اور میں نے اسے یہاں اس لیے نقل کیا ہے کیونکہ مجھے رسول اللہ ﷺ سے سیدنا ابولبابہ رضی اللہ عنہ کی اس کے علاوہ کوئی اور مسند حدیث نہیں ملی۔
یہ حدیث صحیحین کے معیار پر ہے، اور میں نے اسے یہاں اس لیے نقل کیا ہے کیونکہ مجھے رسول اللہ ﷺ سے سیدنا ابولبابہ رضی اللہ عنہ کی اس کے علاوہ کوئی اور مسند حدیث نہیں ملی۔