حدیث نمبر: 6802
أخبرنا أبو جعفر البغدادي، حدثنا أبو عُلاثة، حدثنا أبي، حدثنا ابن لَهِيعة، حدثنا أبو الأسود، عن عُرْوة بن الزُّبير: أنَّ أبا لُبابةَ بشيرَ بن عبد المنذر والحارثَ بن حاطب خرجا إلى رسول الله ﷺ، وخرجا معه إلى بدرٍ فرَجَعَهما، وأَمَّر أبا لُبابة على المدينة، وضرَبَ لهما بسهمينِ مع أصحاب بدرٍ (1).
حافظ طلحہ بابر

عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ ابو لبابة بشیر بن عبدالمنذر اور حارث بن حاطب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بدر کی طرف روانہ ہوئے تھے مگر آپ ﷺ نے ان دونوں کو (راستے سے) واپس بھیج دیا، اور ابولبابہ رضی اللہ عنہ کو مدینہ پر امیر مقرر فرمایا، اور ان دونوں کے لیے اہل بدر کے ساتھ (مالِ غنیمت میں سے) باقاعدہ حصہ مقرر فرمایا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6802
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 6802] [ترقيم الشركة 6722]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) وأخرجه الطبراني في "الكبير" (4494) عن أبي علاثة محمد بن عمرو بن خالد الحراني، بهذا الإسناد (3).
حوالہ / مصدر: اسے امام طبرانی نے "المعجم الکبیر" (4494) میں ابو علاثہ محمد بن عمرو بن خالد الحرانی کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وفي "سيرة ابن هشام" 1/ 688: قال ابن إسحاق: وزعموا أنَّ أبا لبابة بن عبد المنذر والحارث ابن حاطب خرجا مع رسول الله ﷺ فرجعهما، وأمّر أبا لبابة على المدينة، فضرب لهما بسهمين مع أصحاب بدر.
تفصیلِ روایت: سیرت ابن ہشام 1/ 688 کے مطابق ابن اسحاق نے بیان کیا کہ ابو لبابہ بن عبد المنذر اور حارث بن حاطب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (بدر کے لیے) نکلے تھے، مگر آپ ﷺ نے انہیں واپس بھیج دیا اور ابو لبابہ کو مدینہ کا امیر مقرر فرمایا۔ تاہم آپ ﷺ نے ان دونوں کے لیے اصحابِ بدر کے ساتھ مالِ غنیمت میں حصہ مقرر فرمایا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6802 سے ماخوذ ہے۔