کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا ضرار بن ازور اسدی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حدثنا مصعب بن عبد الله الزُّبيري، قال: ضِرارُ بن الأزوَر -واسم الأزور مالك- بن أَوس بن جَذِيمة (2) بن ربيعة (3) بن مالك بن ثعلبة بن دُوْدان بن أَسد بن خُزيمة ابن مُدرِكة بن الياس بن مُضَر، سكنَ الكوفةَ وبها تُوفِّي.
حافظ طلحہ بابر
مصعب بن عبداللہ زبیری سے روایت ہے کہ: ضرار بن ازور —اور ازور کا نام مالک تھا— بن اوس بن جذیمہ بن ربیعہ بن مالک بن ثعلبہ بن دودان بن اسد بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر، وہ کوفہ میں مقیم ہوئے اور وہیں ان کی وفات ہوئی۔
حدثنا عبد الباقي بن قانع الحافظ، حدثنا هشام بن علي السَّدوسي ومحمد ابن محمد التَّمّار، قالا: حدثنا محمد بن سعيد الأثرَم، حدثنا سلَّام أبو المنذر القارئ، حدثنا عاصم بن بَهْدلة، عن أبي وائل، عن ضِرار بن الأزور قال: أتيتُ النبيَّ ﷺ فقلتُ له: امدُدْ يدَك أُبايِعْك على الإسلام، فبايعتُه، ثم قلتُ: تركتُ القِداحَ وعَزْفَ القِيا … نِ والخمرَ تَصْليةً وابتهالا وكَرَّ المُحبَّرِ في غَمْرةٍ … وحَمْلي على المسلمينَ القتالا فيا ربِّ لا أُغبَنَنْ بَيْعتي … وقد بِعتُ أهلي ومالي ابتِدالا فقال النبيُّ ﷺ: "ما غُبِنتَ بَيْعتَك يا ضِرارُ" (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ضرار بن ازور رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کی: (یا رسول اللہ!) اپنا ہاتھ بڑھائیے تاکہ میں اسلام پر آپ کی بیعت کروں، چنانچہ میں نے بیعت کی، پھر میں نے یہ اشعار کہے: ”میں نے جوئے کے تیروں، گا بجا کر تفریح فراہم کرنے والیوں اور شراب کو اللہ کی بندگی اور گڑگڑا کر دعا کرنے کے لیے چھوڑ دیا ہے، اور اب دشمن کی صفوں میں بہادری سے گھسنا اور مسلمانوں کی طرف سے قتال کرنا میرا مشغلہ ہے، پس اے میرے رب! میری اس بیعت میں مجھے نقصان نہ ہونے پائے جبکہ میں نے اپنا گھر بار اور مال و متاع بدل کر (آخرت) خرید لی ہے“، تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے ضرار! تمہاری یہ بیعت خسارے والی نہیں ہے۔“
حدثنا أبو النضر الفقيه، حدثنا معاذ بن نَجْدة القرشي، حدثنا قَبيصة ابن عُقبة، حدثنا سفيان، عن الأعمش، عن عبد الله بن سِنان، عن ضِرار بن الأزوَر قال: مرَّ بي رسولُ الله ﷺ وأنا أحلُبُ، فقال: "دَعْ داعيَ اللَّبن" (1). ذكرُ وابِصة بن مَعبَد الأسَدي ﵁-
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6603 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6603 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ضرار بن ازور رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس سے گزرے جبکہ میں (جانور کا) دودھ دوہ رہا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”دودھ کی پکار (بچے کا حصہ) باقی چھوڑ دو۔“