کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا ابو الطفیل عامر بن واثلہ کنانی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حدثنا مصعب بن عبد الله، قال: عامرُ بن واثلة بن عبد الله بن عُمير بن جُحَيش بن حُدَى (2) بن سعد بن ليث، وُلِد عامَ أُحد، وأدركَ من حياة النبيِّ ﷺ ثمانِ سنين، نزل الكوفة، ثم أقام بمكة حتى مات، وهو آخرُ من مات من أصحابِ رسولِ الله ﷺ، مات سنةَ اثنتين ومئة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6592 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6592 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
مصعب بن عبداللہ سے مروی ہے کہ عامر بن واثلہ بن عبداللہ بن عمیر بن جحیش بن حدی بن سعد بن لیث رضی اللہ عنہما غزوہ احد کے سال پیدا ہوئے اور انہوں نے نبی کریم ﷺ کی حیاتِ مبارکہ کے آٹھ سال پائے، وہ پہلے کوفہ میں مقیم رہے پھر مکہ میں سکونت اختیار کی یہاں تک کہ وہیں وفات پائی، وہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے وفات پانے والے سب سے آخری بزرگ ہیں، ان کا انتقال سنہ 102 ہجری میں ہوا۔
أخبرني محمد بن المؤمَّل، حدثنا الفضل بن محمد، حدثنا أحمد بن حنبل، حدثنا ثابت بن الوليد بن عبد الله بن جُميع، حدثني أبي، قال: قال أبو الطفيل: أدركتُ ثمانِ سنينَ من حياة رسولِ الله ﷺ، ووُلدت عامَ أُحد (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6593 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6593 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوالطفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی مبارک زندگی کے آٹھ سال پائے ہیں اور میری پیدائش غزوہ احد کے سال ہوئی تھی۔
أخبرني أحمد بن يعقوب الثقفي، حدثنا موسى بن زكريا، حدثنا شَبَاب العُصْفري، قال: مات أبو الطُّفيل عامرُ بن واثلة سنةَ مئة (1).
حافظ طلحہ بابر
شباب عصفری سے مروی ہے کہ سیدنا ابوالطفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ کی وفات سنہ 100 ہجری میں ہوئی۔
أخبرني أبو الحسين محمد بن أحمد بن تَميم، حدثنا أبو قِلابة، حدثنا أبو عاصم، أخبرنا جعفر بن يحيى، أخبرني عمِّي عُمارة بن ثَوْبان، أنَّ أبا الطُّفيل أخبره قال: كنتُ غلامًا أحمِلُ عُضوَ البعير، فرأيتُ رسولَ الله ﷺ: يقيم لحمًا بالجِعْرانة، فجاءته امرأةٌ فبسَط لها رداءه، فقلت: مَن هذه؟ قالوا: أمُّه التي أرضعَتْه (2). ذكرُ سُراقة بن مالك بن جُعْشُم ﵁-
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6595 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6595 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوالطفیل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں ایک نوجوان لڑکا تھا اور اونٹ کے جسم کا ایک حصہ (گوشت) اٹھائے ہوئے تھا، میں نے مقامِ جعرانہ میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ گوشت تقسیم فرما رہے ہیں، اسی دوران آپ ﷺ کے پاس ایک خاتون تشریف لائیں تو آپ ﷺ نے (احتراماً) ان کے لیے اپنی چادر بچھا دی، میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا: یہ آپ ﷺ کی وہ ماں ہیں جنہوں نے آپ کو دودھ پلایا تھا (یعنی سیدہ حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا)۔
(اس کے بعد) سیدنا سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ عنہ کا ذکرِ خیر ہے۔
(اس کے بعد) سیدنا سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ عنہ کا ذکرِ خیر ہے۔