کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: ان کے بیٹے سیدنا بصرة بن ابی بصرة رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدثنا الرَّبيع بن سليمان، حدثنا أَسدُ بن موسى، حدثنا ابن لَهِيعة، حدثنا أبو هُبَيرة، أَنَّ أَبا تَمِيمٍ الجَيْشاني عبدَ الله ابنَ مالك أخبره، أنه سمع عمرَو بنَ العاص يقول: أخبرني رجلٌ من أصحاب رسول الله ﷺ أنه سمع رسول الله ﷺ يقول: "إنَّ الله ﵎ قد زادكم صلاةً، فصلُّوها فيما بينَ صلاةِ العِشاء إلى صلاةِ الصُّبح، وهي الوِترُ". وإنَّه أبو بَصْرة الغِفاري. قال أبو تَميمٍ: فكنت أنا وأبو ذرٍّ قاعدَينِ، فأخَذ بيدي أبو ذرٍّ فانطلقنا إلى أبي بَصْرة، فوجدناه عندَ الباب الذي عندَ دارِ عَمرو، فقال له أبو ذر يا أبا بَصْرة، أنت سمعتَ رسول الله ﷺ يقول: "إنَّ الله ﵎ زادكم صلاةً، فَصَلُّوها فيما بينَ صلاةِ العشاءِ إلى صلاةِ الصُّبح؛ الوِترُ الوِترُ"؟ قال: نعم (1). ذكرُ ابنه بَصْرة بن أبي بَصْرة ﵁-
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ کے ایک صحابی نے خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”بے شک اللہ عزوجل نے تمہارے لیے ایک نماز کا اضافہ فرمایا ہے، پس تم اسے عشاء اور صبح کی نماز کے درمیان پڑھا کرو اور وہ وتر ہے۔“ اور وہ (خبر دینے والے) صحابی سیدنا ابو بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ تھے۔ ابو تمیم کہتے ہیں کہ میں اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے، تو سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور ہم سیدنا ابو بصرہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، ہم نے انہیں سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے گھر کے دروازے کے پاس پایا، تو سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا: اے ابوبصرہ! کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: ”بے شک اللہ عزوجل نے تمہارے لیے ایک نماز کا اضافہ فرمایا ہے، پس تم اسے عشاء اور صبح کی نماز کے درمیان پڑھا کرو، وہ وتر ہے، وہ وتر ہے“؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔
أخبرني الأستاذ أبو الوليد ﵁، أخبرنا الحسن بن سفيان، حدثنا محمود بن غَيْلان، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا ابن جُرَيج، عن صفوان بن سُلَيم، عن سعيد بن المسيّب، عن بَصْرة بن أبي بَصْرة الغفاري، قال: تزوَّجتُ امرأةٌ بِكْرًا فوجدتُها حُبْلَى، فقال النبي ﷺ: "أمَّا الولدُ، فعَبْدٌ لك، فإذا وُلِدَ فاجلِدُوها مئةَ جَلْدَةٍ، ولها المَهْرُ بما استَحلَّ من فَرْجِها" (2). ذكرُ أبي رُهْم الغِفاري ﵁-
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6515 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6515 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا بصرہ بن ابی بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: میں نے ایک کنواری عورت سے نکاح کیا تو اسے حاملہ پایا، اس پر نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جہاں تک اس بچے کا تعلق ہے تو وہ تمہارا غلام ہو گا، اور جب وہ عورت بچے کو جنم دے لے تو اسے سو کوڑے لگاؤ، اور اسے مہر ملے گا کیونکہ تم نے اس کی شرمگاہ کو اپنے لیے حلال کیا ہے۔“