المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ ابْنِهِ بَصْرَةَ بْنِ أَبِي بَصْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ باب: ان کے بیٹے سیدنا بصرة بن ابی بصرة رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر
حدیث نمبر: 6659
أخبرني الأستاذ أبو الوليد ﵁، أخبرنا الحسن بن سفيان، حدثنا محمود بن غَيْلان، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا ابن جُرَيج، عن صفوان بن سُلَيم، عن سعيد بن المسيّب، عن بَصْرة بن أبي بَصْرة الغفاري، قال: تزوَّجتُ امرأةٌ بِكْرًا فوجدتُها حُبْلَى، فقال النبي ﷺ: "أمَّا الولدُ، فعَبْدٌ لك، فإذا وُلِدَ فاجلِدُوها مئةَ جَلْدَةٍ، ولها المَهْرُ بما استَحلَّ من فَرْجِها" (2). ذكرُ أبي رُهْم الغِفاري ﵁-
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6515 - سكت عنه الذهبي في التلخيصحافظ طلحہ بابر
سیدنا بصرہ بن ابی بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: میں نے ایک کنواری عورت سے نکاح کیا تو اسے حاملہ پایا، اس پر نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جہاں تک اس بچے کا تعلق ہے تو وہ تمہارا غلام ہو گا، اور جب وہ عورت بچے کو جنم دے لے تو اسے سو کوڑے لگاؤ، اور اسے مہر ملے گا کیونکہ تم نے اس کی شرمگاہ کو اپنے لیے حلال کیا ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده ضعيف، وقد سلف بيانُ ضعفه والخلاف في اسم صحابيِّه برقم (2781).
درجۂ حدیث: اس کی سند "ضعیف" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس کے ضعف کی تفصیل اور صحابی کے نام میں اختلاف کا بیان پہلے نمبر (2781) پر گزر چکا ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند "ضعیف" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس کے ضعف کی تفصیل اور صحابی کے نام میں اختلاف کا بیان پہلے نمبر (2781) پر گزر چکا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6659 سے ماخوذ ہے۔