حدیث نمبر: 6660
أخبرني أحمد بن يعقوب الثَّقَفي، حدثنا موسى بن زكريا، حدثنا خليفة بن خيَّاط: قال أبو رُهْم اسمه كُلْثومُ بن حُصَين بن خالد بن مُعَيسِير (1) بن بَدْر بن أَحْمَسَ بن غِفار، ويقال: كُلْثوم بن حِصْن بن عُتْبة (2) بن خالد. استَخلَفَه رسولُ الله ﷺ على المدينة لما خَرَجَ لفَتْح مكَّة (3).
حافظ طلحہ بابر

خلیفہ بن خیاط بیان کرتے ہیں کہ: ابو رہم کا نام کلثوم بن حصین بن خالد بن معیسیر بن بدر بن احمس بن غفار ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ کلثوم بن حصن بن عتبہ بن خالد ہے۔ رسول اللہ ﷺ جب فتح مکہ کے لیے روانہ ہوئے تو آپ ﷺ نے انہیں مدینہ منورہ پر اپنا قائم مقام مقرر فرمایا تھا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6660
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 6660] [ترقيم الشركة 6580]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) تحرَّف في (م) و (ب) إلى: معيس، وفي (ص) إلى: قيس. والمثبت من "طبقات خليفة" ص 32، وكذا هو في "تهذيب الكمال" 24/ 204، وفي "الاستيعاب" لابن عبد البر ص 805 و "الإصابة" لابن حجر 7/ 441: معيسر، بلا ياء ثانية.
فنی نکتہ / علّت: نسخہ (م) اور (ب) میں اس نام میں "معیس" اور نسخہ (ص) میں "قیس" کی تحریف ہوئی ہے۔ متن میں درست نام "طبقات خلیفہ" ص 32 اور "تہذیب الکمال" 24/ 204 کی روشنی میں درج کیا گیا ہے۔
نوٹ / توضیح: ابن عبد البر کی "الاستيعاب" ص 805 اور ابن حجر کی "الإصابة" 7/ 441 میں یہ نام دوسری "یاء" کے بغیر "معيسر" درج ہے۔
(2) في النسخ الخطية: حصين بن عبيد، والغالب على الظن أنه تحريف، والمثبت من "طبقات خليفة" وكذا هو في "تهذيب الكمال" للمزي.
فنی نکتہ / علّت: خطی نسخوں میں "حصین بن عبید" لکھا ہے، مگر غالب گمان یہی ہے کہ یہ تحریف ہے؛ لہٰذا درست نام "طبقات خلیفہ" اور امام مزی کی "تہذیب الکمال" کے مطابق درج کیا گیا ہے۔
(3) واستخلفه أيضًا في عمرة القضاء وغزوة خيبر كما في تاريخ خليفة" ص 97.
اہم نکتہ: نبی کریم ﷺ نے انہیں "عمرہ القضاء" اور "غزوہ خیبر" کے موقع پر بھی (مدینہ میں) اپنا قائم مقام مقرر فرمایا تھا، جیسا کہ "تاریخ خلیفہ" ص 97 میں مذکور ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6660 سے ماخوذ ہے۔