کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا انس بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر
أخبرني أبو عبد الرحمن محمد بن عبد الله بن أبي الوَزِير، حدثنا أبو حاتم محمد بن إدريس، حدثنا محمد بن عبد الله الأنصاري، حدثنا أَبي، عن مولًى لأنس بن مالك قال: قلت لأنس بن مالك: شهدت بدرًا؟ قال: لا أمَّ لك، وأين غُيِّبت عن بدر؟! (1) قال الأنصاري: خرج أنسٌ مع رسولَ الله ﷺ حين تَوجَّهَ إلى بدرٍ وهو غلامٌ يَخدُم رسولَ الله ﷺ. قال أبو حاتم: فسأَلْنا الأنصاريَّ: كم كان سنُّ أنس بن مالك يومَ مات؟ فقال: مئةُ سنةٍ وسبعُ سنينَ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6446 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6446 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ایک آزاد کردہ غلام سے مروی ہے کہ میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”کیا آپ غزوہ بدر میں شریک تھے؟“ تو انہوں نے جواب دیا: ”تیری ماں تجھے روئے! بھلا میں بدر سے کہاں غائب رہ سکتا تھا؟!“ انصاری کہتے ہیں کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بدر کی طرف روانہ ہوئے تھے جبکہ وہ ایک نوجوان لڑکے تھے اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت کیا کرتے تھے۔ ابوحاتم کہتے ہیں کہ ہم نے انصاری سے پوچھا کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی وفات کے وقت کتنی عمر تھی؟ تو انہوں نے بتایا کہ ان کی عمر ایک سو سات برس تھی۔
حدثنا أبو عبد الله الأصبهاني، حدثنا الحسن بن الجَهْم، حدثنا الحسين ابن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر، حدثني ابن أبي ذِئْب، عن إسحاق بن يزيد قال: رأيتُ أنسَ بنَ مالك مختومًا في عُنقه خَتَمَه الحَجّاج، أراد أن يُذِلَّه بذلك (1).
حافظ طلحہ بابر
اسحاق بن یزید سے مروی ہے کہ میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو اس حال میں دیکھا کہ ان کی گردن پر مہر لگی ہوئی تھی جو حجاج نے لگائی تھی، حجاج اس کے ذریعے آپ کی تذلیل کرنا چاہتا تھا۔