کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ ایک سو سات برس زندہ رہے
أخبرني علي بن عبد الرحمن السَّبيعي، حدثنا الحسين بن الحَكَم الحِبَري، حدثنا أبو نُعَيم قال: تُوفِّي أنسُ بن مالك سنةَ ثلاثٍ وتسعين.
حافظ طلحہ بابر
ابونعیم سے روایت ہے کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی وفات 93 ہجری میں ہوئی۔
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حدثني مُصعَب بن عبد الله الزُّبَيري قال: أنسَ بنُ مالك بن النَّضْر بن ضَمْضَم ابن زيد بن حَرَام بن جُندُب بن عامر بن غَنْم بن عَدِيّ بن النَّجّار، وأمُّه أمُّ سُلَيم بنتُ مِلْحانَ.
حافظ طلحہ بابر
مصعب بن عبداللہ زبیری سے روایت ہے کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا نسب انس بن مالک بن نضر بن ضضم بن زید بن حرام بن جندب بن عامر بن غنم بن عدی بن نجار ہے اور ان کی والدہ سیدہ ام سلیم بنت ملحان رضی اللہ عنہا تھیں۔
أخبرنا أبو بكر أحمد بن سليمان العبَّاداني، حدثنا علي بن حَرْب المَوصِلي، حدثنا سفيان، عن الزُّهْري، عن أنس بن مالك قال: قَدِمَ النبيُّ ﷺ المدينةَ وأنا ابنُ عَشْر، ومات وأنا ابنُ عشرين (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ﷺ مدینہ تشریف لائے تو میری عمر دس سال تھی اور جب آپ ﷺ کی وفات ہوئی تو میں بیس سال کا تھا۔
أخبرني أحمد بن سهل الفقيه بُبخارى، حدثنا قيس بن أُنُيف، حدثنا قُتَيبة بن سعيد، حدثنا عبد الوارث بن سعيد، عن عبد العزيز بن صُهَيب قال: دخلتُ أنا وثابتٌ البناني على أنس بن مالك، فقال ثابت: يا أبا حمزةَ (3).
حافظ طلحہ بابر
عبدالعزیز بن صہیب سے روایت ہے کہ میں اور ثابت بنانی سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ثابت نے انہیں (ان کی کنیت سے) مخاطب کرتے ہوئے کہا: ”اے ابوحمزہ!“