حدثنا أبو عبد الله الأصبهاني، حدثنا أبو حفص بن مَصقَلة، حدثنا سليمان بن داود، حدثنا محمد بن عمر قال: وزيدُ بن خالد الجُهَنيُّ اختُلِف في كُنيته، فكان أهلُ المدينة يَزعمون أنه أبو عبد الرحمن، وقال غيرهم: كان يُكنَى أبا طَلْحة.
حافظ طلحہ بابر
زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کی کنیت کے متعلق اختلاف ہے، اہل مدینہ کا خیال ہے کہ ان کی کنیت ابوعبدالرحمن تھی جبکہ دیگر نے کہا کہ ان کی کنیت ابوطرحہ تھی۔
فحدَّثَنا (1) أسامة بن زيد بن أسلم، عن أبيه ومحمد بن الحِجَازي الجُهَني قالا: مات زيد بن خالد الجُهَني بالمدينة سنة ثمان وسبعين وهو ابن خمس وثمانين سنة.
حافظ طلحہ بابر
محمد بن حجازی جہنی سے روایت ہے کہ سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کی وفات 78 ہجری میں مدینہ منورہ میں ہوئی جبکہ ان کی عمر پچاسی برس تھی۔
أخبرنا إسماعيل بن محمد بن الفضل، حدثنا جدِّي، حدثنا إبراهيم ابن المنذِر الحِزامي قال: زيدُ بن خالد الجُهَني يُكنى أبا عبد الرحمن، مات بالمدينة سنة ثمان وسبعين وهو ابنُ خمس وثمانين. ذكرُ عبد الله بن جعفر بن أبي طالب الطَّيّار ﵁-
حافظ طلحہ بابر
ابراہیم بن منذر سے روایت ہے کہ سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کی کنیت ابوعبدالرحمن تھی، ان کی وفات 78 ہجری میں مدینہ منورہ میں ہوئی جبکہ ان کی عمر پچاسی سال تھی۔