المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
«وَفَاةُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا» باب: سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کی وفات
حدیث نمبر: 6542
فأخبرني مَخلَد بن جعفر، حدثنا محمد بن [جَرير، حدثنا] (2) الحارث، عن محمد بن سعد قال: قلت لمحمد بن عمر: إنَّ أهل الكوفة رَوَوْا عن الأعمش عن أبي سفيان عن جابر أنه قال: كنت أَمِيحُ لأصحابي يوم بدر من القَلِيب! فقال محمد بن عمر: هذا غلطٌ من رواية أهل العراق في جابر وأبي مسعود د الأنصاري، يُصيَّرونهما فيمن شَهِدَ بدرًا، ولم يرو ذلك موسى بنُ عُقبة ولا محمدُ بنُ إسحاق ولا أبو مَعشَرٍ، ولا أحدٌ ممَّن روى السِّيرةَ.
حافظ طلحہ بابر
محمد بن سعد کہتے ہیں کہ میں نے محمد بن عمر (واقدی) سے کہا: اہل کوفہ نے اعمش کے واسطے سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے کہا: میں بدر کے دن اپنے ساتھیوں کے لیے کنویں سے پانی بھرتا تھا! تو محمد بن عمر نے کہا: یہ اہل عراق کی روایت کی غلطی ہے کہ وہ سیدنا جابر اور ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہما کو ان لوگوں میں شمار کرتے ہیں جو بدر میں شریک ہوئے، حالانکہ موسیٰ بن عقبہ، محمد بن اسحاق اور ابومعشر میں سے کسی نے بھی سیرت کی روایات میں اسے ذکر نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) ما بين المعقوفين سقط من نسخنا الخطية، وسلسلة الإسناد هذه معروفة، وقد سلفت عند المصنف برقم (4568). فإنَّ مخلد بن جعفر -وهو الباقَرْحي- معروف بالرواية عن محمد ابن جرير الطبري كما في ترجمته من "تاريخ بغداد" 15/ 230، وابن جرير لا يروي في "تاريخه" عن محمد بن سعد صاحب "الطبقات" إلَّا بواسطة الحارث بن محمد بن أبي أسامة.
فنی نکتہ / علّت: بڑی بریکٹس [ ] کے درمیان والی عبارت ہمارے قلمی نسخوں سے غائب (ساقط) ہے، تاہم یہ اسنادی سلسلہ معروف ہے اور مصنف کے ہاں پہلے رقم (4568) پر گزر چکا ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ مخلد بن جعفر (الباقَرْحی) امام محمد بن جریر الطبری سے روایت کرنے میں مشہور ہیں جیسا کہ "تاريخ بغداد" (15/ 230) میں مذکور ہے، اور امام ابن جریر اپنی "تاریخ" میں محمد بن سعد (صاحب الطبقات) سے الحارث بن محمد بن ابی اسامہ کے واسطے کے بغیر روایت نہیں کرتے۔
فنی نکتہ / علّت: بڑی بریکٹس [ ] کے درمیان والی عبارت ہمارے قلمی نسخوں سے غائب (ساقط) ہے، تاہم یہ اسنادی سلسلہ معروف ہے اور مصنف کے ہاں پہلے رقم (4568) پر گزر چکا ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ مخلد بن جعفر (الباقَرْحی) امام محمد بن جریر الطبری سے روایت کرنے میں مشہور ہیں جیسا کہ "تاريخ بغداد" (15/ 230) میں مذکور ہے، اور امام ابن جریر اپنی "تاریخ" میں محمد بن سعد (صاحب الطبقات) سے الحارث بن محمد بن ابی اسامہ کے واسطے کے بغیر روایت نہیں کرتے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6542 سے ماخوذ ہے۔