کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے عظیم فضائل کا ذکر
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن أحمد الزاهد الأصبهاني، حدثنا أحمد بن مِهْران بن خالد، حدثنا خالد بن مَخلَد القَطَواني، حدثنا عَبد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر قال: بايعتُ النبيَّ ﷺ يومَ الحُديبِيَة على الموت مرتين، قال: رأى عمرُ الناسَ مجتمعين فقال: اذهب فانظُرْ ما شأنُهم، فإذا النبيُّ ﷺ يبايعُ على الموت، فبايعتُه، ثم رجعتُ إلى عمر فأخبرتُه، فجاء فبايَعَه، ثم بايعتُ بعدما بايع (2). وهذه من أجَلِّ فضائل ابن عمر، ولم يُخرجاه، وعبدُ الله بن عمر العُمَري ﵀ لم يُذكَرُ إلَّا بسُوء الحِفْظ فقط.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ صلح حدیبیہ کے دن میں نے دو مرتبہ نبی کریم ﷺ سے موت پر بیعت کی، وہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو (ایک جگہ) جمع دیکھا تو مجھ سے فرمایا: ”جاؤ دیکھو کیا معاملہ ہے،“ میں نے دیکھا کہ نبی کریم ﷺ لوگوں سے موت پر بیعت لے رہے ہیں تو میں نے بھی بیعت کر لی، پھر میں نے واپس آکر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خبر دی تو وہ تشریف لائے اور بیعت کی، پھر میں نے ان کے بیعت کرنے کے بعد دوبارہ بیعت کی۔
یہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے عظیم فضائل میں سے ہے اور اسے شیخین نے روایت نہیں کیا، جبکہ (راوی) عبداللہ بن عمر العمری کا ذکر صرف ان کے حافظے کی کمزوری کی وجہ سے کیا جاتا ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6507
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل خالد القطواني وعبد الله ابن عمر العمري، وقد توبعا عليه. فقد روى معناه عن نافعٍ صخرُ بن جويرية وعمر بن محمد العمري عند البخاري (4186) و (4187).» [ترقيم الرساله 6507] [ترقيم الشركة 6431]
حدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن عبد الله الحَضرَمي، حدثنا سعيد بن عمرو الأَشعَثي، حدثنا عَبثَر، حدثنا حُصَين، عن سالم بن أبي الجَعْد، عن جابر بن عبد الله قال: ما منَّا أحدٌ أدرَكَ الدنيا إلَّا قد مالَتْ به ومالَ بها، إلَّا عبدَ الله بنَ عمر (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6369 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ہم میں سے جس نے بھی دنیا کے اس دور کو پایا، دنیا اس کی طرف مائل ہوگئی یا وہ دنیا کی طرف مائل ہوگیا، سوائے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے (کہ وہ دنیا کی چکا چوند سے بے نیاز رہے)۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6508
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،عبثر: هو ابن القاسم، وحصين: هو ابن عبد الرحمن السُّلمي.» [ترقيم الرساله 6508] [ترقيم الشركة 6432] [ترقيم العلميه 6369]
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب الحافظ، أخبرنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا قُتَيبة بن سعيد وأبو النَّضْر إسماعيل بن عبد الله العِجْلي قالا: حدثنا محمد بن يزيد بن حُنَيس، قال: قال عبد العزيز بن أبي رَوَّاد: حدثني نافع قال: دخل ابنُ عمر الكعبةَ، فسمعته يقول وهو ساجد: قد تَعلَمُ ما يَمنَعُني من مُزاحَمةِ قريشٍ على هذه الدنيا إلَّا خوفُك (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6370 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
نافع سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کعبہ میں داخل ہوئے تو میں نے انہیں سجدے کی حالت میں یہ التجا کرتے سنا: ”(اے اللہ!) تو خوب جانتا ہے کہ اس دنیا کے حصول کے لیے قریش سے مقابلہ کرنے سے مجھے تیرے خوف کے علاوہ کسی چیز نے نہیں روکا۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6509
درجۂ حدیث محدثین: إسناده قوي.
تخریج حدیث «إسناده قوي.» [ترقيم الرساله 6509] [ترقيم الشركة 6433] [ترقيم العلميه 6370]