حدیث نمبر: 6506
أخبرنا الحسن بن يعقوب بن يوسف العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا عبد الله بن إسحاق بن الفضل، حدثني أبي، عن صالح بن خَوَّات، عن نافع، عن ابن عمر قال: لما فَرَضَ عمرُ لأسامةَ بن زيد ثلاثةَ آلاف وفَرَضَ لي ألفين وخمس مئة، فقلت له: يا أَبَهُ، لِمَ تَفرِضُ لأسامة بن زيد ثلاثةَ آلاف وتفرضُ لي ألفين وخمس مئة؟! والله ما شَهِدَ أسامةُ مَشهدًا غبتُ عنه، ولا شَهِدَ أبوه مُشهدًا غاب عنه أَبي، قال: صَدَقتَ يا بنيَّ، ولكنْ أَشهدُ لَأبوه كان أحبَّ الناس إلى رسول الله ﷺ من أبيك، ولهو أحبُّ إلى رسول الله ﷺ منك (1). صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. فإن توهَّم متوهِّمٌ أنَّ هذه الفضيلةَ لأسامة، فليَعلَمْ أني إنما أخرجتُ هذا الحديث لأمرين: أحدُهما شهادةُ عمرَ لابنه: أنه لم يَشهَدْ أسامةً مَشهَدًا إِلَّا شَهِدتَه، وهذا من أجَلِّ فضائل ابن عمر، والثاني: أنَّ الشيخين ﵄ قد خرَّجا أكثرَ ما رُوِيَ من فضائل ابن عمر على شَرْطِهما من المسانيد، فأنا أجتهِدُ في تحصيل خبرٍ مُسنَدٍ صحيحٍ لم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6367 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کا وظیفہ تین ہزار اور میرا دو ہزار پانچ سو مقرر کیا، تو میں نے ان سے عرض کیا: ”ابا جان! آپ نے اسامہ کا وظیفہ تین ہزار اور میرا پچیس سو کیوں رکھا ہے؟ اللہ کی قسم! اسامہ کسی ایسے معرکے میں شریک نہیں ہوئے جس میں میں موجود نہ رہا ہوں، اور نہ ان کے والد کسی ایسی جگہ گئے جہاں میرے والد شریک نہ رہے ہوں،“ انہوں نے جواب دیا: ”اے میرے بیٹے! تم نے سچ کہا، لیکن میں گواہی دیتا ہوں کہ اسامہ کے والد رسول اللہ ﷺ کو تمہارے والد سے زیادہ محبوب تھے، اور اسامہ خود رسول اللہ ﷺ کو تم سے زیادہ محبوب تھے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اگر کوئی یہ سمجھے کہ یہ فضیلت صرف اسامہ رضی اللہ عنہ کے لیے ہے تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ میں نے یہ حدیث دو وجوہات کی بنا پر ذکر کی ہے: اول یہ کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے کے حق میں گواہی دی کہ اسامہ جس معرکے میں بھی گئے ابن عمر رضی اللہ عنہما وہاں موجود تھے، اور یہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کی بہت بڑی فضیلت ہے، دوم یہ کہ شیخین نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل کی اکثر مسند احادیث اپنی شرط پر روایت کر دی ہیں، لہذا میری کوشش ہے کہ وہ صحیح مسند روایات پیش کروں جو انہوں نے روایت نہیں کیں۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6506
درجۂ حدیث محدثین: خبر صحيح
تخریج حدیث «خبر صحيح، وهذا إسناد فيه لين، عبد الله بن إسحاق بن الفضل وأبوه لا يعرف حالهما، وذكر العقيلي في "الضعفاء" 2/ 305 عبد الله وقال: له أحاديث لا يتابع منها على شيء. قلنا: لكن روي هذا الخبر من غير هذا الوجه.» [ترقيم الرساله 6506] [ترقيم الشركة 6430] [ترقيم العلميه 6367]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) خبر صحيح، وهذا إسناد فيه لين، عبد الله بن إسحاق بن الفضل وأبوه لا يعرف حالهما، وذكر العقيلي في "الضعفاء" 2/ 305 عبد الله وقال: له أحاديث لا يتابع منها على شيء. قلنا: لكن روي هذا الخبر من غير هذا الوجه.
درجۂ حدیث: یہ خبر صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس سند میں کچھ کمزوری (لین) ہے؛ عبد اللہ بن اسحاق بن الفضل اور ان کے والد کے حالاتِ زندگی نامعلوم ہیں۔ امام عقیلی نے "الضعفاء" (2/ 305) میں عبد اللہ کا ذکر کیا اور کہا کہ ان کی ایسی احادیث ہیں جن کی کسی اور سے تائید نہیں ملتی۔ ہم کہتے ہیں کہ: اس کے باوجود یہ خبر دوسرے طرق سے بھی مروی ہے۔
فقد أخرجه ابن حبان (7043) من طريق عبد العزيز الدراوردي، عن عبيد الله بن عمر، عن نافع عن ابن عمر. وهذا إسناد قوي.
حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان نے (7043) میں عبد العزیز الدراوردی کے طریق سے، انہوں نے عبید اللہ بن عمر سے، انہوں نے نافع سے اور انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: یہ سند قوی ہے۔
وأخرجه بنحوه الترمذي (3813) من طريق ابن جريج عن زيد بن أسلم، عن أبيه أسلم مولى عمر: أنَّ عمر فرض … وحسَّنه.
حوالہ / مصدر: امام ترمذی نے (3813) میں ابن جریج کے طریق سے، انہوں نے زید بن اسلم سے، انہوں نے اپنے والد اسلم (مولیٰ عمر رضی اللہ عنہ) سے اسی مفہوم کی روایت نقل کی ہے کہ: "عمر رضی اللہ عنہ نے مقرر کیا..."، اور امام ترمذی نے اسے "حسن" قرار دیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6506 سے ماخوذ ہے۔