المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
كان عبد الله بن الزبير أول مولود في الإسلام بالمدينة باب: سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما مدینہ میں اسلام کے پہلے پیدا ہونے والے بچے تھے
أخبرني إسماعيل بن محمد بن الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا جدي، حدثنا إبراهيم بن المنذر الحِزَامي، حدثني عبد الله بن محمد بن يحيى بن عُروة بن الزُّبير، حدثني هشام بن عُرْوة، عن أبيه قال: خَرَجَت أسماء بنت أبي بكر حين هاجَرَت إلى رسول الله ﷺ وهي حاملٌ بعبد الله بن الزُّبير، فنُفِسَتْه، فأَتَتْ به النبيَّ ﷺ ليُحنِّكَه، فأخذه رسولُ الله ﷺ فَوَضَعَه في حَجْرِه، وأُتِي بتمرة فمَصَّها ثم مَضَعَها، ثم وَضَعَها في فيهِ فحنَّكَه بها، فكان أوَّلَ شيءٍ دخل بطنَه رِيقُ رسول الله ﷺ، قالت: ثم مَسَحَه رسول الله ﷺ وسمَّاه عبدَ الله، ثم جاء بعدُ وهو ابنُ سبع سنين أو ابنُ ثمان سنين ليبايعَ النبي ﷺ، وأَمَره الزُّبير بذلك، فتبسَّم النبيُّ ﷺ حين رآه مُقبلًا وبايعَهَ. وكان أولَ من وُلِدَ في الإسلام بالمدينة مَقدَمَ رسولِ الله ﷺ، وكانت اليهود تقول: قد أخَّذْناهم (1)، لا يُولَدُ لهم بالمدينة ولدٌ ذكرٌ، فكبَّر أصحابُ رسول الله ﷺ حسين وُلِدَ عبد الله. وقال عبدُ الله بن عمر بن الخطَّاب حين سمع تكبيرَ أهل الشام وقد قَتَلوا عبدَ الله بنَ الزُّبير: الذين كبَّروا على مولدِه، خيرٌ من الذين كبَّروا على قتلِه (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6330 - عبد الله بن محمد بن يحيى بن عروة تركه أبو حاتمہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ ﷺ کی طرف ہجرت کی تو وہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے حاملہ تھیں، پس ان کی ولادت ہوئی تو وہ انہیں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں لائیں تاکہ آپ ﷺ ان کی تحنیک فرمائیں، رسول اللہ ﷺ نے انہیں اپنی گود میں لیا اور ایک کھجور منگوائی، اسے چبایا اور پھر اپنے دہن مبارک سے نکال کر ان کے منہ میں ڈال دی اور اس کے ذریعے ان کی تحنیک فرمائی، پس ان کے پیٹ میں جانے والی سب سے پہلی چیز رسول اللہ ﷺ کا لعابِ دہن مبارک تھا، راوی بیان کرتے ہیں کہ پھر رسول اللہ ﷺ نے ان پر اپنا ہاتھ پھیرا اور ان کا نام عبداللہ رکھا، پھر وہ سات یا آٹھ سال کی عمر میں نبی کریم ﷺ کی بیعت کے لیے حاضر ہوئے جبکہ ان کے والد سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے انہیں اس کا حکم دیا تھا، پس جب نبی کریم ﷺ نے انہیں آتے دیکھا تو تبسم فرمایا اور ان سے بیعت لی، اور وہ رسول اللہ ﷺ کی مدینہ تشریف آوری کے بعد مدینہ میں پیدا ہونے والے پہلے بچے تھے، اور یہودی (حسد کی وجہ سے) کہا کرتے تھے کہ ہم نے ان پر جادو کر دیا ہے اب مدینہ میں ان کے ہاں کوئی لڑکا پیدا نہیں ہوگا، پس جب عبداللہ پیدا ہوئے تو رسول اللہ ﷺ کے اصحاب نے نعرہ تکبیر بلند کیا، اور سیدنا عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما نے اس وقت فرمایا جب انہوں نے اہل شام کی تکبیروں کی آواز سنی جنہوں نے عبداللہ بن زبیر کو قتل کیا تھا: ”جن لوگوں نے ان کی پیدائش پر تکبیر کہی تھی وہ ان لوگوں سے بہتر تھے جنہوں نے ان کے قتل پر تکبیر کہی ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
نوٹ / توضیح: "التأخيذ" (تشدید کے ساتھ) جادوگروں کا ایک مخصوص عمل ہے جسے "اُخذہ" کہا جاتا ہے؛ یہ جادو کی ایک قسم ہے جس کے ذریعے مردوں کو مباشرت سے روک دیا جاتا ہے۔
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف بمرَّة من أجل عبد الله بن محمد بن يحيى، فهو ضعيف جدًّا صاحب مناكير، وتركه أبو حاتم الرازي كما قال الذهبي في تلخيصه"، لكنه لم ينفرد بهذا الخبر، وباقي رجال الإسناد لا بأس بهم.
درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے، لیکن یہ مخصوص سند عبداللہ بن محمد بن یحییٰ کی وجہ سے "انتہائی ضعیف" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: مذکورہ راوی منکر روایات بیان کرنے والا ہے، امام ابو حاتم رازی نے اسے چھوڑ دیا تھا؛ تاہم وہ اس خبر کو بیان کرنے میں اکیلا نہیں ہے، اور سند کے دیگر تمام رجال درست ہیں۔
وأخرجه الطبراني في "الكبير" (14804) -وعنه أبو نعيم في "معرفة الصحابة" (4132) - وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 28/ 154 - 155 من طريقين عن إبراهيم بن المنذر الحزامي، بهذا الإسناد. وأخرجه ابن عساكر 28/ 154 من طريق عتيق بن يعقوب، عن عبد الله بن محمد به.
حوالہ / مصدر: اسے طبرانی (14804) اور ان سے ابو نعیم (4132) نے، نیز ابن عساکر (28/ 154) نے ابراہیم بن المنذر الحزامی کے دو طریقوں سے روایت کیا ہے۔ ابن عساکر نے عتیق بن یعقوب کے طریق سے بھی اسے نقل کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه أحمد 44/ (26938)، والبخاري (3909) و (5469)، ومسلم (2146) (24) من طريق أبي أسامة حماد بن أسامة، ومسلم أيضًا (2145) (25) من طريق شعيب بن إسحاق وعلي بن مسهر، ثلاثتهم عن هشام بن عروة، به. لكن لم يذكر أحدٌ منهم قصة التكبير في آخره وقول ابن عمر عند مقتل ابن الزبير.
متابعات و شواہد: امام احمد (26938)، بخاری (3909، 5469) اور مسلم (2146/ 24) نے ابو اسامہ کے طریق سے، اور مسلم نے دیگر طریقوں سے بھی اسے ہشام بن عروہ سے روایت کیا ہے؛ تاہم ان میں سے کسی نے بھی آخر میں تکبیر کا قصہ اور حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی شہادت پر ابن عمر رضی اللہ عنہما کا قول ذکر نہیں کیا۔
وانظر ما سيأتي برقم (6552).
اہم نکتہ: اس حوالے سے آگے روایت رقم (6552) ملاحظہ فرمائیں۔