کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: نبی کریم ﷺ کا سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو تعلیم دینا
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب عَوْدًا على بَدْءٍ، حِفظًا ومن الكِتاب، حدثنا أحمد بن شَيْبان الرَّملي، حدثنا عبد الله بن ميمون القَدَّاح، عن شِهاب بن خِرَاش، عن عبد الملك بن عُمير، عن ابن عبّاس قال: أُهدِيَ إلى النبي ﷺ بغلةٌ، أهداها له كِسْرى فرَكِبَها بحَبْلٍ من شَعر، ثم أردَفَني خلفَه، ثم سار بي مَلِيًّا ثم التَفَت فقال: "يا غلامُ" قلت: لبَّيْكَ يا رسولَ الله، قال: "احفَظ الله يَحفَظْك، احفَظِ الله تَجِده أمامَك، تَعرَّف إلى الله في الرَّخاءِ يَعرِفْك في الشِّدّة، وإذا سألتَ فاسألِ الله، وإذا استعنتَ فاستَعِنْ بالله، قد مضى القلمُ بما هو كائنٌ، فلو جَهَدَ الناسُ أن يَنفَعوك بما لم يَقضِهِ اللهُ لك، لم يَقدِروا عليه، ولو جَهَدَ الناسُ أن يَضرُّوك بما لم يَكتبْه اللهُ عليك، لم يَقدِروا عليه، فإن استطعت أن تعملَ بالصَّبر مع اليقين فافعَلْ، فإن لم تستطعْ فاصبِرْ، فإنَّ في الصبر على ما تَكرهُه خيرًا كثيرًا، واعلمْ أنَّ مع الصبر النَّصْرَ، واعلمْ أنَّ مع الكَرْب الفَرَجَ، واعلم أنَّ مع العُسر اليُسر" (2).
هذا حديثٌ كبيرٌ عالٍ من حديث عبد الملك بن عُمير عن ابن عبّاس ﵄، إلَّا أنَّ الشيخين لم يُخرجا شِهابَ بنَ خِرَاش ولا القَدّاحَ في "الصحيحين"، وقد رُوِيَ الحديثُ بأسانيد عن ابن عبّاس غيرِ هذا (1).
هذا حديثٌ كبيرٌ عالٍ من حديث عبد الملك بن عُمير عن ابن عبّاس ﵄، إلَّا أنَّ الشيخين لم يُخرجا شِهابَ بنَ خِرَاش ولا القَدّاحَ في "الصحيحين"، وقد رُوِيَ الحديثُ بأسانيد عن ابن عبّاس غيرِ هذا (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کو کسریٰ نے ایک خچر تحفے میں دیا، آپ ﷺ بالوں سے بنی رسی کی لگام کے ساتھ اس پر سوار ہوئے اور مجھے اپنے پیچھے بٹھا لیا، پھر کچھ دیر چلنے کے بعد آپ ﷺ میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”اے لڑکے!“ میں نے عرض کیا: لبیک یا رسول اللہ، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اللہ کے احکامات کی حفاظت کرو، اللہ تمہاری حفاظت فرمائے گا، تم اللہ کے حقوق کا خیال رکھو، تم اسے اپنے سامنے پاؤ گے، تم خوشحالی میں اللہ کو پہچانو تو وہ تمہیں تنگی میں پہچانے گا، اور جب تم سوال کرو تو صرف اللہ سے کرو، اور جب مدد چاہو تو صرف اللہ سے مدد مانگو، قلم ان تمام باتوں کو لکھ کر خشک ہو چکا ہے جو ہونے والی ہیں، پس اگر تمام لوگ تمہیں وہ نفع پہنچانا چاہیں جو اللہ نے تمہارے لیے مقدر نہیں کیا تو وہ اس پر قادر نہ ہو سکیں گے، اور اگر تمام لوگ تمہیں وہ نقصان پہنچانا چاہیں جو اللہ نے تمہارے ذمے نہیں لکھا تو وہ اس پر قادر نہ ہوں گے، پس اگر تم یقین کے ساتھ صبر پر عمل کر سکو تو ایسا ہی کرو، اور اگر تم استطاعت نہ رکھو تو صبر کرو، کیونکہ جس چیز کو تم ناپسند کرتے ہو اس پر صبر کرنے میں بہت بڑی خیر ہے، اور جان لو کہ صبر کے ساتھ ہی نصرت ہے، اور جان لو کہ تکلیف کے ساتھ ہی کشادگی ہے، اور جان لو کہ ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔“
یہ عبدالملک بن عمیر کی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ایک بہت بڑی اور عالی مقام حدیث ہے، البتہ شیخین نے شہاب بن خراش اور قدّاح کو اپنی صحیحین میں روایت نہیں کیا، جبکہ یہ حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دیگر اسناد کے ساتھ بھی مروی ہے۔
یہ عبدالملک بن عمیر کی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ایک بہت بڑی اور عالی مقام حدیث ہے، البتہ شیخین نے شہاب بن خراش اور قدّاح کو اپنی صحیحین میں روایت نہیں کیا، جبکہ یہ حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دیگر اسناد کے ساتھ بھی مروی ہے۔
حدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدثنا مُعلَّى (2) بن مَهديّ، حدثنا أبو شِهاب أخبرنا عيسى بن محمد القُرشي، عن ابن أبي مُلَيكة، عن ابن عبّاس قال: قال لي رسول الله ﷺ: "احفظِ اللهَ يَحفَظْك، احفظِ الله تَجِدْه أمامك، تعرَّفْ إلى الله في الرَّخاء يَعرِفْك في الشِّدة، واعلم أنَّ ما أصابك لم يكن ليُخطئك، وما أخطأَكَ لم يكن ليُصيبَك، واعلم أنَّ الخلائقَ لو اجتمعوا أن يُعطوك شيئًا لم يُرِدِ الله أن يُعطيَك، لم يَقدِروا عليه، ولو اجتمعوا أن يَصرِفوا عنك شيئًا أراد اللهُ أن يُصيبَك به، لم يَقدِروا على ذلك، فإذا سألتَ فاسألِ الله، وإذا استعنتَ فاستَعِنْ بالله، واعلم أنَّ النصرَ مع الصَّبْر، وأنَّ الفَرَجَ مع الكَرْب، وأنَّ مع العُسرِ يُسرًا، واعلم أن القلم قد جَرَى بما هو كائن" (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6304 - عيسى بن محمد القرشي ليس بمعتمد
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6304 - عيسى بن محمد القرشي ليس بمعتمد
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”تم اللہ کے احکامات کی حفاظت کرو، اللہ تمہاری حفاظت فرمائے گا، تم اللہ کے حقوق کا پاس رکھو، تم اسے اپنے سامنے پاؤ گے، تم فراخی و خوشحالی میں اللہ کو پہچانو تو وہ تمہیں سختی و تنگی میں پہچانے گا، اور جان لو کہ جو تکلیف یا بھلائی تمہیں پہنچی ہے وہ تم سے چوکنے والی نہ تھی، اور جو تم سے چوک گئی وہ تمہیں پہنچنے والی نہ تھی، اور جان لو کہ اگر ساری مخلوق مل کر تمہیں وہ چیز دینا چاہے جو اللہ نے تمہارے لیے مقدر نہیں کی تو وہ اس پر قدرت نہیں رکھیں گے، اور اگر وہ مل کر تم سے وہ چیز ٹالنا چاہیں جسے اللہ نے تمہارے لیے مقدر کر دیا ہے تو وہ ایسا نہیں کر پائیں گے، پس جب تم مانگو تو اللہ سے مانگو، اور جب مدد طلب کرو تو اللہ سے مدد طلب کرو، اور جان لو کہ کامیابی صبر کے ساتھ ہے، اور کشادگی تکلیف کے ساتھ ہے، اور بے شک تنگی کے ساتھ آسانی ہے، اور جان لو کہ قلم ان تمام امور کو لکھ کر چل چکا ہے جو ہونے والے ہیں۔“