کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان رکنوں کے استلام پر گفتگو
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدثنا أحمد بن عبد الله بن يونس، حدثنا زهير بن معاوية حدثنا عبد الله بن عثمان بن خُثَيم، حدثني أبو الطُّفيل: أنه رأى معاويةَ يطوفُ بالكعبة وعن يساره عبدُ الله بن عبّاس وأنا أَتلُوهما في ظُهورهما أسمعُ كلامَهما، فطَفِقَ معاويةُ يستلمُ رُكنَي الحِجْر، فيقول له ابن عبّاس: إنَّ رسولَ الله ﷺ لم يكن يستلمُ هذين الرُّكنَين، فيقول معاوية: يا ابنَ عبّاس، فإنه ليس شيءٌ منها مهجورًا، فطَفِقَ ابنُ عبّاس لا يَذَرُه كلَّما وَضَعَ يده على شيء من الرُّكنين إلَّا قال له ذلك ابنُ عبّاس (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6305 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6305 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
ابو الطفیل بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو کعبہ کا طواف کرتے دیکھا جبکہ ان کے بائیں جانب سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما تھے اور میں ان کے پیچھے پیچھے چلتے ہوئے ان کی گفتگو سن رہا تھا، پس سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ حطیم کی جانب والے دونوں کونوں (رکنِ عراقی اور رکنِ شامی) کا بھی استلام کرنے لگے تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے کہا: ”بے شک رسول اللہ ﷺ ان دونوں کونوں کا استلام نہیں فرمایا کرتے تھے،“ تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ”اے ابن عباس! بیت اللہ کا کوئی بھی حصہ چھوڑنے کے لائق (مہجور) نہیں ہے،“ پس سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما باز نہ آئے اور جب بھی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ان دونوں کونوں میں سے کسی پر ہاتھ رکھتے تو ابن عباس رضی اللہ عنہما انہیں یہی بات کہتے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا جعفر بن محمد بن سَوّار، حدثنا قُتَيبة بن سعيد، أخبرنا جرير، عن سالم بن أبي حَفْصة، عن عبد الله بن مُلَيْل العِجْلي قال: سمعتُ ابن عبّاس قبل موته بثلاثٍ يقول: اللهمَّ إني أتوبُ إليك ممّا كنت أُفتي الناسَ في الصَّرْف (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، وهو من أجلِّ مناقبِ عبد الله بن عبّاس: أنه رَجَعَ عن فتوى لم يُنقَمْ عليه في شيءٍ غيرِها.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6306 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، وهو من أجلِّ مناقبِ عبد الله بن عبّاس: أنه رَجَعَ عن فتوى لم يُنقَمْ عليه في شيءٍ غيرِها.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6306 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
عبداللہ بن ملیل عجلی بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو ان کی وفات سے تین دن پہلے یہ کہتے ہوئے سنا: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَتُوبُ إِلَيْكَ مِمَّا كُنْتُ أُفْتِي النَّاسَ فِي الصَّرْفِ» ”اے اللہ! میں تیری جناب میں ان فتاویٰ سے توبہ کرتا ہوں جو میں لوگوں کو صَرف (کرنسی کے تبادلے) کے متعلق دیا کرتا تھا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور یہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے جلیل القدر مناقب میں سے ہے کہ انہوں نے اپنی اس رائے سے رجوع کر لیا جس کے سوا ان کی کسی اور بات پر اعتراض نہیں کیا گیا تھا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور یہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے جلیل القدر مناقب میں سے ہے کہ انہوں نے اپنی اس رائے سے رجوع کر لیا جس کے سوا ان کی کسی اور بات پر اعتراض نہیں کیا گیا تھا۔