حدیث نمبر: 6435
وأخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا إسماعيل بن إسحاق، حدثنا إبراهيم ابن الحَجّاج السَّامي، حدثنا عبد الوارث بن سعيد حدثنا أبو قَبِيصة سُكَين بن عبد العزيز (2) المُجاشعي، حدثني عبد الله بن عُبَيد بن عُمير قال: بينما ابنُ عبّاس مع عمر وهو آخذٌ بيده، فقال عمر: أَرى القرآنَ قد ظَهَرَ في الناس، فقلت: ما أُحِبُّ ذاكَ يا أمير المؤمنين، قال: فاجتَذَبَ يدَه من يدي وقال: لِمَ؟ قلتُ: لأنهم متى يَقرؤوا يَنفِروا، ومتى ما يَنفِروا يختلفوا، ومتى ما يختلفوا يضربْ بعضُهم رِقابَ بعض، فقال: فحُبِسَ عني وتَرَكني، فظَلِلتُ بيومٍ لا يعلمُه إلَّا الله، ثم أَتاني رسولُه عند الظُّهر فقال: أَجِبْ أميرَ المؤمنين، قال: فأتيتُه، فقال لي: كيف قلتَ؟ قلتُ: ما أحبُّ ذاك يا أمير المؤمنين، إنهم متى ما يقرؤُوا يَنفروا، ومتى ما يَنفِرُوا اختلفوا، ومتى ما يَختلِفوا يضربْ بعضُهم رقابَ بعض، فقال عمر: إن كنتُ لأكاتمُها الناسَ (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6302 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر

عبداللہ بن عبید بن عمیر بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ہاتھ تھام رکھا تھا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں دیکھ رہا ہوں کہ قرآن لوگوں میں بہت عام ہو گیا ہے،“ میں نے عرض کیا: ”اے امیر المومنین! مجھے یہ بات پسند نہیں ہے،“ راوی کہتے ہیں کہ انہوں نے میرا ہاتھ جھٹک کر چھوڑ دیا اور پوچھا: ”کیوں؟“ میں نے عرض کیا: ”اس لیے کہ جب وہ کثرت سے پڑھیں گے تو (سمجھے بغیر عجلت میں) آگے بڑھیں گے، اور جب تیزی دکھائیں گے تو باہم اختلاف کریں گے، اور جب وہ اختلاف کریں گے تو ایک دوسرے کی گردنیں ماریں گے،“ راوی کہتے ہیں کہ انہوں نے مجھے چھوڑ دیا اور مجھ سے کنارہ کشی اختیار کر لی، پس مجھ پر وہ دن (خوف و اضطراب میں) اس طرح گزرا جسے اللہ ہی جانتا ہے، پھر ظہر کے وقت ان کا قاصد آیا اور کہا: ”امیر المومنین کے بلاوے پر حاضر ہو جاؤ،“ میں ان کے پاس آیا تو انہوں نے مجھ سے پوچھا: ”تم نے کیا کہا تھا؟“ میں نے پھر عرض کیا: ”اے امیر المومنین! مجھے یہ بات پسند نہیں، کیونکہ جب وہ (قرآن) کثرت سے پڑھیں گے تو عجلت کریں گے، اور جب عجلت کریں گے تو اختلاف کریں گے، اور جب اختلاف کریں گے تو ایک دوسرے کی گردنیں ماریں گے،“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بے شک میں بھی اس بات کو لوگوں سے چھپائے ہوئے تھا (یعنی میرے دل میں بھی یہی خطرہ تھا)۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6435
درجۂ حدیث محدثین: أصل الخبر صحيح كما في سابقه
تخریج حدیث «أصل الخبر صحيح كما في سابقه، وهذا إسناد منقطع، فإِنَّ عبد الله بن عبيد لم يدرك عمر، ولعله حمله عن ابن عبّاس، فقد أدركه وروى عنه. وسكين ليس بذاك المعروف.» [ترقيم الرساله 6435] [ترقيم الشركة 6361] [ترقيم العلميه 6302]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) كذا وقع عنده: سكين بن عبد العزيز، وهو خطأ، فسكين هذا الذي يروي عن عبد الله بن عبيد وعنه عبد الوارث هو سكين بن يزيد، وهو الذي يكنى أبا قبيصة. انظر "التاريخ الكبير" للبخاري 4/ 199، و"الكنى والأسماء" لمسلم (2813)، وللدولابي 3/ 923، و "الثقات" لابن حبان 6/ 432.
فنی نکتہ / علّت: یہاں "سکین بن عبدالعزیز" کا نام غلطی سے لکھا گیا ہے؛ درست نام "سکین بن یزید" ہے جو عبداللہ بن عبید سے روایت کرتے ہیں اور ان سے عبدالوارث روایت کرتے ہیں۔ ان کی کنیت ابوقبیصہ ہے۔ تفصیل کے لیے بخاری "التاریخ الکبیر" (4/ 199) اور ابن حبان "الثقات" (6/ 432) ملاحظہ کریں۔
(1) أصل الخبر صحيح كما في سابقه، وهذا إسناد منقطع، فإِنَّ عبد الله بن عبيد لم يدرك عمر، ولعله حمله عن ابن عبّاس، فقد أدركه وروى عنه. وسكين ليس بذاك المعروف.
درجۂ حدیث: خبر کی اصل صحیح ہے، لیکن یہ سند "منقطع" ہے، کیونکہ عبداللہ بن عبید نے حضرت عمر کا زمانہ نہیں پایا۔
فنی نکتہ / علّت: غالب گمان یہ ہے کہ انہوں نے یہ ابن عباس سے سنا ہوگا کیونکہ ان سے ان کی ملاقات اور روایت ثابت ہے۔ نیز راوی "سکین" زیادہ معروف نہیں ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6435 سے ماخوذ ہے۔