کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: علم کے حصول میں سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی محنت
أخبرنا أبو العبّاس محمد بن أحمد المحبُوبي بمَرْوٍ، حدثنا سعيد بن مسعود حدثنا يزيد بن هارون، أخبرني جَرِير بن حازم، عن يعلى بن حَكيم، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبّاس قال: لما مات رسولُ الله ﷺ قلت لرجلٍ من الأنصار: هَلُمَّ يا فلانُ فلنطلُبْ، فإنَّ أصحابَ رسول الله ﷺ أحياءٌ، قال: عجبًا لك يا ابنَ عبّاس، تَرَى الناسَ يحتاجون إليك وفي الناسِ من أصحاب رسول الله ﷺ مَن فيهم؟! قال: فتركتُ ذاكَ وأقبلتُ أطلُبُ، إن كان الحديثُ لَيبلُغُني عن الرجل من أصحابِ رسول الله ﷺ، قد سَمِعَه من رسول الله، فآتِيهِ فأجلسُ ببابه فتَسفِقُ الريحُ على وجهي فيخرج إليَّ فيقول: يا ابنَ عمِّ رسولِ الله ﷺ، ما جاءَ بك؟ ما حاجَتُك؟ فأقولُ: حديثٌ بَلَغَني عنك تَرويهِ عن رسول الله ﷺ، فيقول: ألَا أرسلت إليَّ؟ فأقولُ: أنا أحقُّ أن آتيَكَ. قال: فبقيَ ذلك الرجلُ حتى إنَّ الناسَ اجتَمَعوا عليَّ فقال: هذا الفتى كان أعقلَ منِّي (1).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6294 - على شرط البخاري
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6294 - على شرط البخاري
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی تو میں نے ایک انصاری شخص سے کہا: اے فلاں! آؤ ہم (علم) تلاش کریں کیونکہ آج رسول اللہ ﷺ کے اصحاب (کثرت سے) زندہ ہیں، اس نے کہا: عجب بات ہے اے ابن عباس! کیا آپ سمجھتے ہیں کہ لوگ آپ کے محتاج ہوں گے جبکہ لوگوں میں رسول اللہ ﷺ کے وہ (بڑے) صحابہ موجود ہیں جو موجود ہیں؟! (ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں:) میں نے اسے چھوڑ دیا اور خود (علم کی) تلاش میں لگ گیا، اگر مجھے کسی صحابی کے متعلق پتا چلتا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے کوئی حدیث سنی ہے تو میں ان کے دروازے پر جا پہنچتا اور (ان کے آرام کے پیشِ نظر دستک نہ دیتا بلکہ) وہاں بیٹھ جاتا، ہوا میرے چہرے پر مٹی اڑاتی رہتی یہاں تک کہ وہ باہر تشریف لاتے اور مجھے دیکھ کر کہتے: اے رسول اللہ ﷺ کے چچا زاد! آپ کیسے تشریف لائے؟ آپ کی کیا حاجت ہے؟ میں عرض کرتا: ایک حدیث مجھے معلوم ہوئی ہے جو آپ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے: ”آپ نے مجھے پیغام کیوں نہ بھیج دیا (میں خود حاضر ہو جاتا)؟“ تو میں کہتا: ”میں اس بات کا زیادہ حقدار ہوں کہ آپ کے پاس خود آؤں۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: وہ انصاری شخص زندہ رہا یہاں تک کہ اس نے دیکھا کہ لوگ میرے گرد (علم کے لیے) جمع ہو رہے ہیں، تو اس نے کہا: یہ نوجوان مجھ سے زیادہ عقل مند تھا۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا إبراهيم بن الحَجّاج، حدثنا عبد الوارث بن سعيد، حدثنا أيوب السَّخْتِياني، عن عِكْرمة: أنَّ ناسًا ارتدُّوا على عهد عليٍّ فأحرَقَهم بالنار، فبلغ ذلك ابن عبّاس، فقال: لو كنتُ أنا كنتُ قاتِلَهم، لقول رسول الله ﷺ: "من بدَّلَ دينَه فاقتُلوه"، ولم أكن أُحرِّقُهم، لأني سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "لا تُعذِّبوا بعذابِ الله". فبلغ ذلك عليًّا فقال: وَيْحَ ابنِ عبّاس (2).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6295 - على شرط البخاري
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6295 - على شرط البخاري
حافظ طلحہ بابر
عکرمہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے عہد میں کچھ لوگ مرتد ہو گئے تو انہوں نے انہیں آگ سے جلا دیا، جب یہ خبر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو پہنچی تو انہوں نے فرمایا: ”اگر میں ان کی جگہ ہوتا تو میں انہیں (تلوار سے) قتل کر دیتا کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: ”جو اپنا دین بدل لے اسے قتل کر دو،“ اور میں انہیں آگ سے ہرگز نہ جلاتا کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”تم اللہ کے عذاب (آگ) کے ساتھ کسی کو عذاب نہ دو۔““ جب یہ بات سیدنا علی رضی اللہ عنہ تک پہنچائی گئی تو انہوں نے (ابن عباس رضی اللہ عنہما کی علمی بصیرت پر تعجب کرتے ہوئے) فرمایا: ”ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بھلا ہو (یا ابن عباس نے سچ کہا)۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔