حدیث نمبر: 6427
أخبرنا أبو العبّاس محمد بن أحمد المحبُوبي بمَرْوٍ، حدثنا سعيد بن مسعود حدثنا يزيد بن هارون، أخبرني جَرِير بن حازم، عن يعلى بن حَكيم، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبّاس قال: لما مات رسولُ الله ﷺ قلت لرجلٍ من الأنصار: هَلُمَّ يا فلانُ فلنطلُبْ، فإنَّ أصحابَ رسول الله ﷺ أحياءٌ، قال: عجبًا لك يا ابنَ عبّاس، تَرَى الناسَ يحتاجون إليك وفي الناسِ من أصحاب رسول الله ﷺ مَن فيهم؟! قال: فتركتُ ذاكَ وأقبلتُ أطلُبُ، إن كان الحديثُ لَيبلُغُني عن الرجل من أصحابِ رسول الله ﷺ، قد سَمِعَه من رسول الله، فآتِيهِ فأجلسُ ببابه فتَسفِقُ الريحُ على وجهي فيخرج إليَّ فيقول: يا ابنَ عمِّ رسولِ الله ﷺ، ما جاءَ بك؟ ما حاجَتُك؟ فأقولُ: حديثٌ بَلَغَني عنك تَرويهِ عن رسول الله ﷺ، فيقول: ألَا أرسلت إليَّ؟ فأقولُ: أنا أحقُّ أن آتيَكَ. قال: فبقيَ ذلك الرجلُ حتى إنَّ الناسَ اجتَمَعوا عليَّ فقال: هذا الفتى كان أعقلَ منِّي (1).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6294 - على شرط البخاري
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی تو میں نے ایک انصاری شخص سے کہا: اے فلاں! آؤ ہم (علم) تلاش کریں کیونکہ آج رسول اللہ ﷺ کے اصحاب (کثرت سے) زندہ ہیں، اس نے کہا: عجب بات ہے اے ابن عباس! کیا آپ سمجھتے ہیں کہ لوگ آپ کے محتاج ہوں گے جبکہ لوگوں میں رسول اللہ ﷺ کے وہ (بڑے) صحابہ موجود ہیں جو موجود ہیں؟! (ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں:) میں نے اسے چھوڑ دیا اور خود (علم کی) تلاش میں لگ گیا، اگر مجھے کسی صحابی کے متعلق پتا چلتا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے کوئی حدیث سنی ہے تو میں ان کے دروازے پر جا پہنچتا اور (ان کے آرام کے پیشِ نظر دستک نہ دیتا بلکہ) وہاں بیٹھ جاتا، ہوا میرے چہرے پر مٹی اڑاتی رہتی یہاں تک کہ وہ باہر تشریف لاتے اور مجھے دیکھ کر کہتے: اے رسول اللہ ﷺ کے چچا زاد! آپ کیسے تشریف لائے؟ آپ کی کیا حاجت ہے؟ میں عرض کرتا: ایک حدیث مجھے معلوم ہوئی ہے جو آپ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے: ”آپ نے مجھے پیغام کیوں نہ بھیج دیا (میں خود حاضر ہو جاتا)؟“ تو میں کہتا: ”میں اس بات کا زیادہ حقدار ہوں کہ آپ کے پاس خود آؤں۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: وہ انصاری شخص زندہ رہا یہاں تک کہ اس نے دیکھا کہ لوگ میرے گرد (علم کے لیے) جمع ہو رہے ہیں، تو اس نے کہا: یہ نوجوان مجھ سے زیادہ عقل مند تھا۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6427
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، إلَّا أنَّ ذكر سعيد بن جبير فيه وهمٌ، والمحفوظ أنه من رواية يعلى بن حكيم عن عكرمة، هكذا قال كلُّ من رواه عن يزيد بن هارون، وقد سلف من طريقه على الصواب برقم (368).» [ترقيم الرساله 6427] [ترقيم الشركة 6353] [ترقيم العلميه 6294]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح، إلَّا أنَّ ذكر سعيد بن جبير فيه وهمٌ، والمحفوظ أنه من رواية يعلى بن حكيم عن عكرمة، هكذا قال كلُّ من رواه عن يزيد بن هارون، وقد سلف من طريقه على الصواب برقم (368).
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے، مگر اس میں سعید بن جبیر کا ذکر "وہم" (غلطی) ہے۔
فنی نکتہ / علّت: محفوظ بات یہ ہے کہ یہ "یعلٰی بن حکیم" کی عکرمہ سے روایت ہے، اور یزید بن ہارون سے روایت کرنے والے تمام راویوں نے اسی طرح نقل کیا ہے۔ مصنف کے ہاں رقم (368) پر یہ روایت درست طریقے سے پہلے گزر چکی ہے۔
قوله: فتسفق، أي: تضرب وتلطم، وسلف بلفظ: تَسفي الريح، أي: تذرّ وتنثر.
نوٹ / توضیح: قول "فتسفق" کا مطلب مارنا یا تھپڑ مارنا ہے؛ جبکہ پہلے یہ "تسفی الریح" کے الفاظ سے گزرا ہے جس کا مطلب ہوا کا اڑانا یا بکھیرنا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6427 سے ماخوذ ہے۔