المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ باب: علم کے حصول میں سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی محنت
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا إبراهيم بن الحَجّاج، حدثنا عبد الوارث بن سعيد، حدثنا أيوب السَّخْتِياني، عن عِكْرمة: أنَّ ناسًا ارتدُّوا على عهد عليٍّ فأحرَقَهم بالنار، فبلغ ذلك ابن عبّاس، فقال: لو كنتُ أنا كنتُ قاتِلَهم، لقول رسول الله ﷺ: "من بدَّلَ دينَه فاقتُلوه"، ولم أكن أُحرِّقُهم، لأني سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "لا تُعذِّبوا بعذابِ الله". فبلغ ذلك عليًّا فقال: وَيْحَ ابنِ عبّاس (2).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6295 - على شرط البخاريعکرمہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے عہد میں کچھ لوگ مرتد ہو گئے تو انہوں نے انہیں آگ سے جلا دیا، جب یہ خبر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو پہنچی تو انہوں نے فرمایا: ”اگر میں ان کی جگہ ہوتا تو میں انہیں (تلوار سے) قتل کر دیتا کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: ”جو اپنا دین بدل لے اسے قتل کر دو،“ اور میں انہیں آگ سے ہرگز نہ جلاتا کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”تم اللہ کے عذاب (آگ) کے ساتھ کسی کو عذاب نہ دو۔““ جب یہ بات سیدنا علی رضی اللہ عنہ تک پہنچائی گئی تو انہوں نے (ابن عباس رضی اللہ عنہما کی علمی بصیرت پر تعجب کرتے ہوئے) فرمایا: ”ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بھلا ہو (یا ابن عباس نے سچ کہا)۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أحمد 3/ (1871) و 4 / (2551) و (2552)، والبخاري (3017) و (6922)، وأبو داود (4351)، والترمذي، (1458)، والنسائي (3509)، وابن حبان (5606) من طرق عن أيوب السختياني، عن عِكْرمة به. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (3/ 1871، 4/ 2551)، بخاری (3017، 6922)، ابوداود (4351)، ترمذی (1458)، نسائی (3509) اور ابن حبان (5606) نے ایوب السختیانی کے واسطے سے عکرمہ سے روایت کیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: امام حاکم کا اسے مستدرک میں لانا ان کی ذہنی چوک (ذہول) ہے کیونکہ یہ پہلے سے کتبِ صحاح میں موجود ہے۔
وأخرج أحمد 5/ (2966)، والنسائي (3514) من طريق قتادة، عن أنس بن مالك: أنَّ عليًا أتي بأناس … فذكر نحوه مختصرًا.
متابعات و شواہد: امام احمد (5/ 2966) اور نسائی (3514) نے قتادہ کے طریق سے حضرت انس بن مالک سے روایت کیا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس کچھ لوگ لائے گئے... آگے اسی طرح کی روایت مختصراً مذکور ہے۔