کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی نبی کریم ﷺ کے گھر میں نماز
قال علي: وحدثنا حَجّاج، حدثنا شُعبة، عن أبي نَوفَل قال: قلت لابن عبّاس: يا أبا العبّاس.
حافظ طلحہ بابر
ابو نوفل بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا: ”اے ابوالعباس!“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6411
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 6411]
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا إسماعيل بن إسحاق، حدثنا مُسدَّد ابن مُسرهَد، حدثنا يحيى بن سعيد، عن أبي يونس - وهو حاتم بن أبي صَغيرة - عن عمرو بن دينار، عن كُرَيب، عن ابن عبّاس قال: أَتيتُ النبيَّ ﷺ وهو يصلِّي من آخر الليل، فقمتُ وراءَه، فأَخذني فأقامني حِذاءَه، فلما أَقبَل على صلاته انخَنَستُ، فلما انصرف قال: "ما لك؟ أَجعَلُك حِذائي فتَخنُسَ؟ " قلت: ما ينبغي لأحد أن يصلِّيَ حِذاءَك وأنت رسولُ الله، فأَعجَبه، فدعا الله أن يزيدَني فَهْمًا وعلمًا (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6279 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں رات کے آخری حصے میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے، میں آپ ﷺ کے پیچھے کھڑا ہو گیا، تو آپ ﷺ نے مجھے پکڑ کر اپنے برابر کھڑا کر دیا، پھر جب آپ ﷺ اپنی نماز کی طرف متوجہ ہوئے تو میں پیچھے ہٹ گیا، نماز سے فارغ ہو کر آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”تجھے کیا ہوا؟ میں تجھے اپنے برابر کھڑا کرتا ہوں اور تو پیچھے ہٹ جاتا ہے؟“ میں نے عرض کیا: کسی کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ آپ کے برابر کھڑا ہو کر نماز پڑھے جبکہ آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ ﷺ کو میری یہ بات پسند آئی تو آپ ﷺ نے اللہ سے دعا فرمائی کہ وہ میری سمجھ اور علم میں اضافہ فرمائے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6412
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،كريب: هو مولى ابن عبّاس.» [ترقيم الرساله 6412] [ترقيم الشركة 6338] [ترقيم العلميه 6279]