المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
صَلَاةُ ابْنِ عَبَّاسٍ مَعَ النَّبِيِّ فِي بَيْتِهِ باب: سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی نبی کریم ﷺ کے گھر میں نماز
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا إسماعيل بن إسحاق، حدثنا مُسدَّد ابن مُسرهَد، حدثنا يحيى بن سعيد، عن أبي يونس - وهو حاتم بن أبي صَغيرة - عن عمرو بن دينار، عن كُرَيب، عن ابن عبّاس قال: أَتيتُ النبيَّ ﷺ وهو يصلِّي من آخر الليل، فقمتُ وراءَه، فأَخذني فأقامني حِذاءَه، فلما أَقبَل على صلاته انخَنَستُ، فلما انصرف قال: "ما لك؟ أَجعَلُك حِذائي فتَخنُسَ؟ " قلت: ما ينبغي لأحد أن يصلِّيَ حِذاءَك وأنت رسولُ الله، فأَعجَبه، فدعا الله أن يزيدَني فَهْمًا وعلمًا (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6279 - على شرط البخاري ومسلمسیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں رات کے آخری حصے میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے، میں آپ ﷺ کے پیچھے کھڑا ہو گیا، تو آپ ﷺ نے مجھے پکڑ کر اپنے برابر کھڑا کر دیا، پھر جب آپ ﷺ اپنی نماز کی طرف متوجہ ہوئے تو میں پیچھے ہٹ گیا، نماز سے فارغ ہو کر آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”تجھے کیا ہوا؟ میں تجھے اپنے برابر کھڑا کرتا ہوں اور تو پیچھے ہٹ جاتا ہے؟“ میں نے عرض کیا: کسی کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ آپ کے برابر کھڑا ہو کر نماز پڑھے جبکہ آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ ﷺ کو میری یہ بات پسند آئی تو آپ ﷺ نے اللہ سے دعا فرمائی کہ وہ میری سمجھ اور علم میں اضافہ فرمائے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: سند میں موجود راوی "کریب" سے مراد ابن عباس رضی اللہ عنہما کے مولیٰ (آزاد کردہ غلام) کریب بن ابی مسلم ہیں۔
وأخرجه أحمد 5/ (3060) عن عبد الله بن بكر السهمي عن حاتم بن أبي صغيرة، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے مسند (5/ 3060) میں عبداللہ بن بکر السہمی کے طریق سے، انہوں نے حاتم بن ابی صغیرہ سے، اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
انخنستُ: تأخرت عنه.
نوٹ / توضیح: روایت میں مستعمل لفظ "انخنستُ" کا لغوی و فنی معنی "میں پیچھے ہٹ گیا" یا "میں نے تاخیر کی" کے ہیں۔
(2) أصل القصة عندهما بغير هذه السياقة كما قال الحاكم: البخاري (138) و (859) ومسلم (763) (186) من طريق سفيان بن عيينة، والبخاري (726) من طريق داود العطار، كلاهما عن عمرو بن دينار.
متابعات و شواہد: امام حاکم کے بقول اس قصے کی اصل صحیحین (بخاری و مسلم) میں اس سیاق کے علاوہ موجود ہے: صحیح بخاری (138، 859) اور صحیح مسلم (763، 186) میں سفیان بن عیینہ کے طریق سے، اور بخاری (726) میں داود العطار کے طریق سے مروی ہے؛ یہ دونوں عمرو بن دینار سے روایت کرتے ہیں۔