حدثنا أبو عبد الله الأصبهاني، حدثنا الحسن بن الجَهْم، حدثنا الحسين ابن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر قال: هِندُ بن حارثة الأسلميُّ، شَهِدَ الحُدَيبِيَة مع رسول الله ﷺ، ومات هِندُ بن حارثة بالمدينة في خلافة أمير المؤمنين عليٍّ ﵁. وقيل: إنهم ثمانيةُ إخوةٍ كلُّهم صَحِبوا النبيَّ ﷺ وشَهِدوا بيعة الرِّضْوان، وهم: أسماءُ، وهندُ، وخِداشٌ، وذُؤَيبٌ، وحُمْرانُ، وفَضَاله، وسَلَمةُ، ومالكٌ، بنو حارثةَ ابن سعيد بن عبد الله بن غِياث (1).
حافظ طلحہ بابر
محمد بن عمر بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ہند بن حارثہ اسلمی رضی اللہ عنہ صلحِ حدیبیہ میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ حاضر تھے، اور ان کی وفات امیر المومنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں مدینہ میں ہوئی، ایک قول کے مطابق یہ آٹھ بھائی تھے اور ان سب کو صحبتِ نبوی ﷺ کا شرف حاصل ہوا اور وہ بیعتِ رضوان میں شریک تھے، جن کے نام یہ ہیں: اسماء، ہند، خداش، ذویب، حمران، فضالہ، سلمہ اور مالک پسرانِ حارثہ۔
أخبرني أبو الحسين محمد بن بن الأَصَمِّ بقَنطَرة بَرَدانَ، حدثنا أحمد أبو قِلابةَ، حدثنا أبو عاصم، حدثنا يزيد بن أبي عُبيدٍ، حدثنا سَلَمةُ بن الأكوَع: أَنَّ رسول الله ﷺ بَعَثَ رجلًا من أسلم يوم عاشوراءَ، فقال: "من أكل وشَرِبَ فليُتِمَّ صومَه، ومن لم يكن أكلَ فليَصُمْ بقيّة يومِه" (2). قد تقدَّمَت الرواية بأن أسماءَ هو الرسوُل بذلك، ورُوِي أنه هند:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یومِ عاشورہ کے دن قبیلہ اسلم کے ایک شخص کو یہ پیغام دے کر بھیجا کہ: ”جس نے کھا پی لیا ہو وہ (بقیہ دن) اپنے روزے کو پورا کرے (یعنی اب کچھ نہ کھائے) اور جس نے ابھی تک کچھ نہیں کھایا وہ دن کے باقی حصے کا روزہ رکھ لے۔“
أخبرناه بكر بن محمد الصَّيرَفي بمَرْيِ، حدثنا أبو الأحوَص محمد بن الهيثم أخبرنا أبو هشام المخزومي، حدثنا، وُهَيب، عن عبد الرحمن بن حَرمَلة الأسلَمي، عن يحيى بن هند بن حارثةَ، عن أبيه هندِ بن حارثة: أنَّ النبي ﷺ بَعَثَه يومَ عاشوراءَ، قال: "مُرْ قومك فليَصُوموا هذا اليومَ"، قال: أرأيتَ يا رسول الله إن وجدتُهم قد طَعِمُوا؟ قال: "فليُتِمُّوا آخرَ يومهم" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ذكرُ سليمان بن صُرَد بن الجَوْن الخُزاعي ﵁-
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6254 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ذكرُ سليمان بن صُرَد بن الجَوْن الخُزاعي ﵁-
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6254 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
یحییٰ بن ہند اپنے والد سیدنا ہند بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے انہیں یومِ عاشورہ کے دن (منادی کے لیے) بھیجا اور فرمایا: ”اپنی قوم کو حکم دو کہ وہ آج کے دن کا روزہ رکھیں،“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اگر میں انہیں اس حال میں پاؤں کہ وہ کھانا کھا چکے ہوں تو (کیا حکم ہے)؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر وہ اپنے دن کے بقیہ حصے کو (روزے دار کی طرح) پورا کریں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔