المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
هِنْدُ بْنُ حَارِثَةَ الْأَسْلَمِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا ہند بن حارثہ اسلمی رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 6384
أخبرناه بكر بن محمد الصَّيرَفي بمَرْيِ، حدثنا أبو الأحوَص محمد بن الهيثم أخبرنا أبو هشام المخزومي، حدثنا، وُهَيب، عن عبد الرحمن بن حَرمَلة الأسلَمي، عن يحيى بن هند بن حارثةَ، عن أبيه هندِ بن حارثة: أنَّ النبي ﷺ بَعَثَه يومَ عاشوراءَ، قال: "مُرْ قومك فليَصُوموا هذا اليومَ"، قال: أرأيتَ يا رسول الله إن وجدتُهم قد طَعِمُوا؟ قال: "فليُتِمُّوا آخرَ يومهم" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ذكرُ سليمان بن صُرَد بن الجَوْن الخُزاعي ﵁-
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6254 - صحيححافظ طلحہ بابر
یحییٰ بن ہند اپنے والد سیدنا ہند بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے انہیں یومِ عاشورہ کے دن (منادی کے لیے) بھیجا اور فرمایا: ”اپنی قوم کو حکم دو کہ وہ آج کے دن کا روزہ رکھیں،“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اگر میں انہیں اس حال میں پاؤں کہ وہ کھانا کھا چکے ہوں تو (کیا حکم ہے)؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر وہ اپنے دن کے بقیہ حصے کو (روزے دار کی طرح) پورا کریں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح لكن من حديث أسماء بن حارثة لا أخيه هند كما تقدَّم بيانه في الرواية السابقة برقم (6379).
درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح" ہے، فنی نکتہ / علّت: مگر یہ حضرت اسماء بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے نہ کہ ان کے بھائی ہند کی، جیسا کہ پچھلی روایت نمبر (6379) کے تحت واضح کیا جا چکا ہے۔
درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح" ہے، فنی نکتہ / علّت: مگر یہ حضرت اسماء بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے نہ کہ ان کے بھائی ہند کی، جیسا کہ پچھلی روایت نمبر (6379) کے تحت واضح کیا جا چکا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6384 سے ماخوذ ہے۔