حدثنا أبو عبد الله الأصبهاني، حدثنا الحسن بن الجَهْم، حدثنا الحسين ابن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر قال: رَبيعةُ بن كعب الأسلمي، أسلَمَ وصحبَ النبيَّ ﷺ قديمًا، وكان من أهل الصُّفّة، وكان يَخدم رسول الله ﷺ، ولم يَزَلْ ربيعةُ ابن كعب يَلزَمُ النبي ﷺ بالمدينة ويغزو معه حتى قُبِضَ، فخرج ربيعةُ من المدينة فنزل بَيْنَ (2)، وهي بلاد أسلَمَ، وهي على بَريدٍ من المدينة، وبقي ربيعةُ إلى أيام الحرَّة فهَلَكَ فيها، وكانت الحرّةُ في ذي الحِجَّة سنة ثلاثٍ وستين.
حافظ طلحہ بابر
محمد بن عمر بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ قدیم الاسلام صحابی اور اہل صفہ میں سے تھے، وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت گزاری پر مامور تھے اور نبی کریم ﷺ کی وفات تک مدینہ میں آپ ﷺ کے ساتھ وابستہ رہے اور تمام غزوات میں شریک ہوئے، آپ ﷺ کے وصال کے بعد وہ مدینہ سے نکل کر ”بين“ نامی مقام پر مقیم ہو گئے جو مدینہ سے ایک برید کے فاصلے پر قبیلہ اسلم کی بستی تھی، وہ واقعہ حرہ کے ایام تک حیات رہے اور اسی دوران ذوالحجہ سن 63 ہجری میں ان کی وفات ہوئی۔
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا عفّان، حدثنا المبارَكُ بن فَضَالة قال: حدثني أبو عِمران الجَوْني، حدثني ربيعةُ بن كعب الأسلَمي قال: كنت أخدُمُ رسولَ الله ﷺ، فقال لي: "يا ربيعةُ، ألَا تَزوَّجُ؟ " فقلت: لا والله، ما أريد أن أتزوَّجَ (1). ذكرُ معاذ بن الحارث القارئ ﵁-
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6217 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6217 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت کیا کرتا تھا، تو آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”اے ربیعہ! کیا تم نکاح نہیں کرو گے؟“ میں نے عرض کیا: ”نہیں، اللہ کی قسم! میں نکاح کا ارادہ نہیں رکھتا۔“