المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ رَبِيعَةَ بْنِ كَعْبٍ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ باب: ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ کا ذکر
حدیث نمبر: 6342
حدثنا أبو عبد الله الأصبهاني، حدثنا الحسن بن الجَهْم، حدثنا الحسين ابن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر قال: رَبيعةُ بن كعب الأسلمي، أسلَمَ وصحبَ النبيَّ ﷺ قديمًا، وكان من أهل الصُّفّة، وكان يَخدم رسول الله ﷺ، ولم يَزَلْ ربيعةُ ابن كعب يَلزَمُ النبي ﷺ بالمدينة ويغزو معه حتى قُبِضَ، فخرج ربيعةُ من المدينة فنزل بَيْنَ (2)، وهي بلاد أسلَمَ، وهي على بَريدٍ من المدينة، وبقي ربيعةُ إلى أيام الحرَّة فهَلَكَ فيها، وكانت الحرّةُ في ذي الحِجَّة سنة ثلاثٍ وستين.
حافظ طلحہ بابر
محمد بن عمر بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ قدیم الاسلام صحابی اور اہل صفہ میں سے تھے، وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت گزاری پر مامور تھے اور نبی کریم ﷺ کی وفات تک مدینہ میں آپ ﷺ کے ساتھ وابستہ رہے اور تمام غزوات میں شریک ہوئے، آپ ﷺ کے وصال کے بعد وہ مدینہ سے نکل کر ”بين“ نامی مقام پر مقیم ہو گئے جو مدینہ سے ایک برید کے فاصلے پر قبیلہ اسلم کی بستی تھی، وہ واقعہ حرہ کے ایام تک حیات رہے اور اسی دوران ذوالحجہ سن 63 ہجری میں ان کی وفات ہوئی۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) في (م) و (ص): بين، بموحدة ثم مثناة، والصواب كما في (ز) بياءين مثناتين، وهو موضع على مسافة 45 كم جنوب المدينة، على طريق مكة من موضع بدرٍ.
نوٹ / توضیح: نسخہ (م) اور (ص) میں لفظ 'بین' ہے، مگر درست نسخہ (ز) کے مطابق 'ییّ' (دو یاء کے ساتھ) ہے؛ یہ مدینہ سے 45 کلومیٹر جنوب میں مکہ کے راستے پر ایک مقام ہے۔
نوٹ / توضیح: نسخہ (م) اور (ص) میں لفظ 'بین' ہے، مگر درست نسخہ (ز) کے مطابق 'ییّ' (دو یاء کے ساتھ) ہے؛ یہ مدینہ سے 45 کلومیٹر جنوب میں مکہ کے راستے پر ایک مقام ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6342 سے ماخوذ ہے۔