حدثنا الشيخ أبو بكر بن بالَوَيِه، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حدثنا مُصعَب بن عبد الله قال: وفي السَّنةِ الجماعةِ سنةِ أربعين (3) مات أبو أُسَيد مالكُ بن رَبيعة بن عامر بن عَوْف بن الخَزَرج بن ساعدةَ، وهو آخر من مات من أهل بدرٍ، وكان ممَّن أبصَرَ الملائكة يوم بدر، فكُفَّ بصره، فكان أمينَ رسول الله ﷺ على نسائه (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6190 - هذا خطأ
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6190 - هذا خطأ
حافظ طلحہ بابر
مصعب بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ سن 40 ہجری (عام الجماعت) میں ابو اسید مالک بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی، وہ اہلِ بدر میں سب سے آخر میں وفات پانے والے تھے، وہ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے بدر کے دن فرشتوں کو دیکھا تھا، پھر ان کی بینائی چلی گئی، وہ نبی کریم ﷺ کی ازواجِ مطہرات کے لیے امین (نگہبان) تھے۔
أخبرني عبد الله بن غانم الصَّيدَلاني، حدثنا محمد بن إبراهيم العَبْدي، حدثنا يحيى بن بُكَير قال: تُوفِّي أبو أُسيد الساعدي سنةَ ستين، وهو ابنُ اثنتين وتسعين سنةً.
حافظ طلحہ بابر
یحییٰ بن بکیر بیان کرتے ہیں کہ ابو اسید ساعدی رضی اللہ عنہ کی وفات سن 60 ہجری میں ہوئی اور اس وقت ان کی عمر 92 برس تھی۔
حدثنا أبو عبد الأصبهاني، حدثنا الحسن بن الجَهْم، حدثنا الحسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر، حدثني أُبيٌّ، عن العبّاس بن سهل بن سعد الساعديّ قال: رأيتُ أبا أُسَيد الساعدي بعد أن ذهب بصُره قصيرًا دخداحًا، أبيضَ الرأس واللحيةِ، ورأيت رأسَه كثيرَ الشَّعر، ومات أبو أُسيد بالمدينة سنة ستين، وهو ابن ثمان وتسعين سنة، وهو آخر من مات من أهل بدر (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6192 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6192 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
عباس بن سہل بن سعد ساعدی بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابو اسید ساعدی رضی اللہ عنہ کو ان کی بینائی جانے کے بعد دیکھا، وہ پستہ قد تھے، ان کے سر اور داڑھی کے بال سفید تھے لیکن سر کے بال کافی گھنے تھے، ان کی وفات مدینہ میں سن 60 ہجری میں ہوئی جبکہ ان کی عمر 98 برس تھی اور وہ اہلِ بدر میں سے سب سے آخر میں وفات پانے والے تھے۔
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم أخبرنا ابن وهب، أخبرني ابن أبي ذِئْب، وأنس بن عِيَاض، عن جعفر ابن محمد، عن أبيه: أنَّ أبا أُسَيد الأنصاريَّ قَدِمَ بسَبْي من البحرَين، فصُفُوا، فقام رسول الله ﷺ فَنَظَر إليهم، فإذا امرأةٌ تبكي، فقال: "ما يُبكيك؟ " فقالت: بِيعَ ابني في بني عَبْس، فقال رسول الله ﷺ لأبي أُسَيد: "لتَركَبَنَّ فَلَتجِيئنَّ به"، فرَكِبَ أبو أُسيد فجاءَ به (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6193 - مرسل
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6193 - مرسل
حافظ طلحہ بابر
جعفر بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ابو اسید انصاری رضی اللہ عنہ بحرین سے کچھ قیدی لے کر آئے، جب انہیں صفوں میں کھڑا کیا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے کھڑے ہو کر ان کی طرف دیکھا تو ایک عورت رو رہی تھی، آپ ﷺ نے پوچھا: ”تجھے کون سی چیز رلا رہی ہے؟“ اس نے عرض کیا کہ میرا بیٹا بنو عبس میں فروخت کر دیا گیا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے ابو اسید سے فرمایا: ”تم ابھی سوار ہو کر جاؤ اور اسے لے کر آؤ،“ چنانچہ ابو اسید روانہ ہوئے اور اسے لے آئے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔