حدیث نمبر: 6315
حدثنا الشيخ أبو بكر بن بالَوَيِه، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حدثنا مُصعَب بن عبد الله قال: وفي السَّنةِ الجماعةِ سنةِ أربعين (3) مات أبو أُسَيد مالكُ بن رَبيعة بن عامر بن عَوْف بن الخَزَرج بن ساعدةَ، وهو آخر من مات من أهل بدرٍ، وكان ممَّن أبصَرَ الملائكة يوم بدر، فكُفَّ بصره، فكان أمينَ رسول الله ﷺ على نسائه (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6190 - هذا خطأ
حافظ طلحہ بابر

مصعب بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ سن 40 ہجری (عام الجماعت) میں ابو اسید مالک بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی، وہ اہلِ بدر میں سب سے آخر میں وفات پانے والے تھے، وہ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے بدر کے دن فرشتوں کو دیکھا تھا، پھر ان کی بینائی چلی گئی، وہ نبی کریم ﷺ کی ازواجِ مطہرات کے لیے امین (نگہبان) تھے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6315
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 6315] [ترقيم الشركة 6248] [ترقيم العلميه 6190]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) هكذا في (ز) و (ب)، وهذه العبارة "وفي السنة الجماعة سنة أربعين" مكانها بياض في (م) و (ص).
فنی نکتہ / علّت: جملہ "اور جماعت کے سال (عام الجماعہ) 40ھ میں" نسخہ (ز) اور (ب) میں ہے، جبکہ (م) اور (ص) میں یہاں جگہ خالی چھوڑی گئی ہے۔
(1) قال الذهبي في "تلخيصه": هذا خطأ. قلنا: لعله أراد تخطئة كونه آخر البدريين وفاةً، فقد توفي بعده منهم سعد بن أبي وقاص سنة خمس وخمسين، أما سنة وفاة أبي أسيد فقد صحَّح الذهبي نفسه في كتابيه "سير النبلاء" 2/ 538 و "تاريخ الإسلام" 2/ 375 أنها في سنة أربعين.
اہم نکتہ: علامہ ذہبی کا اسے غلط قرار دینا غالباً اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ آخری بدری صحابی نہیں تھے (کیونکہ حضرت سعد بن ابی وقاص 55ھ میں فوت ہوئے)۔ البتہ ان کی وفات کا سال 40ھ ہی درست ہے جیسا کہ ذہبی نے خود صراحت کی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6315 سے ماخوذ ہے۔