المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
كَانَ أَبُو أُسَيْدٍ أَمِينًا عَلَى نِسَاءِ النَّبِيِّ باب: ابو اسید نبی کریم ﷺ کی ازواج کے معاملات پر امین تھے
حدیث نمبر: 6318
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم أخبرنا ابن وهب، أخبرني ابن أبي ذِئْب، وأنس بن عِيَاض، عن جعفر ابن محمد، عن أبيه: أنَّ أبا أُسَيد الأنصاريَّ قَدِمَ بسَبْي من البحرَين، فصُفُوا، فقام رسول الله ﷺ فَنَظَر إليهم، فإذا امرأةٌ تبكي، فقال: "ما يُبكيك؟ " فقالت: بِيعَ ابني في بني عَبْس، فقال رسول الله ﷺ لأبي أُسَيد: "لتَركَبَنَّ فَلَتجِيئنَّ به"، فرَكِبَ أبو أُسيد فجاءَ به (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6193 - مرسلحافظ طلحہ بابر
جعفر بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ابو اسید انصاری رضی اللہ عنہ بحرین سے کچھ قیدی لے کر آئے، جب انہیں صفوں میں کھڑا کیا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے کھڑے ہو کر ان کی طرف دیکھا تو ایک عورت رو رہی تھی، آپ ﷺ نے پوچھا: ”تجھے کون سی چیز رلا رہی ہے؟“ اس نے عرض کیا کہ میرا بیٹا بنو عبس میں فروخت کر دیا گیا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے ابو اسید سے فرمایا: ”تم ابھی سوار ہو کر جاؤ اور اسے لے کر آؤ،“ چنانچہ ابو اسید روانہ ہوئے اور اسے لے آئے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) رجاله ثقات إلّا أنه مرسل محمد والد جعفر: هو محمد بن علي بن الحسين بن علي بن أبي طالب، تابعي صغير ولم يدرك أبا أُسيد، وقد بيَّن البيهقي في روايته في "السنن" أنَّ ابن أبي ذئب قال في حديثه: عن جعفر بن محمد عن أبيه عن جده، وجدُّه -وهو علي بن الحسين زين العابدين- لم يدرك زمن وقوع هذه القصة، فهو على كل حال مرسل، وقال البيهقي: هذا وإن كان فيه إرسال، فهو مرسل حسن.
درجۂ حدیث: یہ سند 'مرسل حسن' ہے۔
فنی نکتہ / علّت: امام محمد باقر (محمد والد جعفر) نے حضرت ابو اسید کا زمانہ نہیں پایا، اور اگر ان کے والد امام زین العابدین کا واسطہ بھی مانا جائے تو انہوں نے بھی یہ واقعہ نہیں دیکھا، لہٰذا یہ روایت 'مرسل' ہے۔
وأخرجه البيهقي في "السنن الكبرى" 9/ 126، و"معرفة السنن والآثار" (18318) عن أبي عبد الله الحاكم - زاد في "السنن": وأبي بكر أحمد بن الحسن القاضي - عن أبي العبّاس بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے 'السنن الکبریٰ' (9/ 126) میں امام حاکم کی سند سے روایت کیا ہے۔
وهو في "مسند ابن وهب" (29) بزيادة "عن جده" في الإسناد.
حوالہ / مصدر: یہ "مسند ابن وہب" (29) میں سند میں "عن جدہ" کے اضافے کے ساتھ موجود ہے۔
وأخرجه كذلك ابن المنذر في "الأوسط" (6248) عن محمد بن عبد الله بن عبد الحكم به. ولم يذكر فيه أنس بن عياض.
حوالہ / مصدر: اسے ابن المنذر نے 'الاوسط' (6248) میں روایت کیا ہے، مگر اس میں انس بن عیاض کا ذکر نہیں ہے۔
وأخرجه سعيد بن منصور في "سننه" (2654) عن عبد العزيز بن محمد الدراوردي، عن جعفر بن محمد، به -ولم يذكر جدَّه.
حوالہ / مصدر: اسے سعید بن منصور (2654) نے دراوردی عن جعفر بن محمد کی سند سے روایت کیا ہے۔
وفي باب النهي عن التفريق بين الوالدة وولدها ونحوه في السَّبي انظر ما سلف عند المصنف بالأرقام (2362 - 2366).
نوٹ / توضیح: قیدیوں میں ماں اور بچے کو جدا کرنے کی ممانعت کے باب میں سابقہ احادیث (2362-2366) ملاحظہ فرمائیں۔
درجۂ حدیث: یہ سند 'مرسل حسن' ہے۔
فنی نکتہ / علّت: امام محمد باقر (محمد والد جعفر) نے حضرت ابو اسید کا زمانہ نہیں پایا، اور اگر ان کے والد امام زین العابدین کا واسطہ بھی مانا جائے تو انہوں نے بھی یہ واقعہ نہیں دیکھا، لہٰذا یہ روایت 'مرسل' ہے۔
وأخرجه البيهقي في "السنن الكبرى" 9/ 126، و"معرفة السنن والآثار" (18318) عن أبي عبد الله الحاكم - زاد في "السنن": وأبي بكر أحمد بن الحسن القاضي - عن أبي العبّاس بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے 'السنن الکبریٰ' (9/ 126) میں امام حاکم کی سند سے روایت کیا ہے۔
وهو في "مسند ابن وهب" (29) بزيادة "عن جده" في الإسناد.
حوالہ / مصدر: یہ "مسند ابن وہب" (29) میں سند میں "عن جدہ" کے اضافے کے ساتھ موجود ہے۔
وأخرجه كذلك ابن المنذر في "الأوسط" (6248) عن محمد بن عبد الله بن عبد الحكم به. ولم يذكر فيه أنس بن عياض.
حوالہ / مصدر: اسے ابن المنذر نے 'الاوسط' (6248) میں روایت کیا ہے، مگر اس میں انس بن عیاض کا ذکر نہیں ہے۔
وأخرجه سعيد بن منصور في "سننه" (2654) عن عبد العزيز بن محمد الدراوردي، عن جعفر بن محمد، به -ولم يذكر جدَّه.
حوالہ / مصدر: اسے سعید بن منصور (2654) نے دراوردی عن جعفر بن محمد کی سند سے روایت کیا ہے۔
وفي باب النهي عن التفريق بين الوالدة وولدها ونحوه في السَّبي انظر ما سلف عند المصنف بالأرقام (2362 - 2366).
نوٹ / توضیح: قیدیوں میں ماں اور بچے کو جدا کرنے کی ممانعت کے باب میں سابقہ احادیث (2362-2366) ملاحظہ فرمائیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6318 سے ماخوذ ہے۔