حَدَّثَنَا أحمد بن كامل بن خَلَف القاضي، حَدَّثَنَا عبد الله بن رَوْح المدائني، حَدَّثَنَا شَبَابةُ بن سَوّار، حَدَّثَنَا عاصم بن محمد، عن أبيه قال: رأيتُ أبا هريرة يَخرُج يومَ الجمعة فيَقبِضُ على رُمَّانتَي المِنبَر قائمًا، ويقول: حَدَّثَنَا أبو القاسم رسولُ الله الصادقُ المصدوقُ ﷺ، فلا يزالُ يحدِّث حتَّى إذا سَمِعَ فَتْحَ بابِ المقصورة لخروج الإمام للصلاة جَلَسَ (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. قد تحرَّيتُ الابتداءَ من فضائل أبي هريرة لحفظِه لحديث المصطفى ﷺ، وشهادةِ الصحابة والتابعين له بذلك، فإنَّ كلَّ مَن طَلَبَ حفظَ الحديث من أول الإسلام وإلى عصرِنا هذا فإنَّهم من أتباعِه وشِيعتِه، إذْ هو أوّلُهم وأحقُّهم باسم الحِفْظ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6173 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. قد تحرَّيتُ الابتداءَ من فضائل أبي هريرة لحفظِه لحديث المصطفى ﷺ، وشهادةِ الصحابة والتابعين له بذلك، فإنَّ كلَّ مَن طَلَبَ حفظَ الحديث من أول الإسلام وإلى عصرِنا هذا فإنَّهم من أتباعِه وشِيعتِه، إذْ هو أوّلُهم وأحقُّهم باسم الحِفْظ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6173 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
عاصم بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: ”میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ جمعہ کے دن نکلتے اور منبر کے دونوں دستوں کو پکڑ کر کھڑے ہو جاتے اور فرماتے: ”ہم سے ابوالقاسم، رسول اللہ ﷺ نے جو کہ سچے اور جن کی تصدیق کی گئی ہے، حدیث بیان فرمائی،“ پھر وہ مسلسل احادیث بیان کرتے رہتے یہاں تک کہ جب وہ امام کے نماز کے لیے نکلنے کی خاطر مخصوص کمرے کا دروازہ کھلنے کی آواز سنتے تو بیٹھ جاتے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے فضائل کی ابتدا نبی مصطفی ﷺ کی احادیث کے لیے ان کے حفظ اور صحابہ و تابعین کی اس پر گواہی سے کرنے کا ارادہ کیا ہے، کیونکہ اسلام کی ابتدا سے لے کر ہمارے اس دور تک جس نے بھی حفظِ حدیث کا ارادہ کیا وہ ان ہی کے نقشِ قدم پر چلنے والا ہے، کیونکہ وہ حفظ کے معاملے میں سب سے پہلے اور اس نام کے سب سے زیادہ حقدار ہیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے فضائل کی ابتدا نبی مصطفی ﷺ کی احادیث کے لیے ان کے حفظ اور صحابہ و تابعین کی اس پر گواہی سے کرنے کا ارادہ کیا ہے، کیونکہ اسلام کی ابتدا سے لے کر ہمارے اس دور تک جس نے بھی حفظِ حدیث کا ارادہ کیا وہ ان ہی کے نقشِ قدم پر چلنے والا ہے، کیونکہ وہ حفظ کے معاملے میں سب سے پہلے اور اس نام کے سب سے زیادہ حقدار ہیں۔
وقد أخبرني عبد الله بن محمد بن زياد العَدْل قال: سمعت أبا بكر محمد بن إسحاق الإمامَ يقول؛ وذَكَرَ أبا هريرة فقال: كان من أكثر أصحابِه عنه روايةً فيما انتَشَرَ من روايتِه وروايةِ غيره من أصحاب رسول الله ﷺ مع مَخارِجَ صِحاحٍ. قال أبو بكر: وقد روى عنه أبو أيّوب الأنصاريُّ مع جلالةِ قَدْرِه ونزول رسول الله ﷺ عنده.
حافظ طلحہ بابر
امام ابوبکر محمد بن اسحاق سے مروی ہے، انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ”وہ آپ ﷺ کے اصحاب میں سے ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے صحیح سندوں کے ساتھ کثرت سے روایتیں بیان کیں جو ان کی اور رسول اللہ ﷺ کے دیگر صحابہ کی مرویات میں پھیل گئیں۔“ ابوبکر کہتے ہیں: ”اور ان سے سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے بھی روایت کی ہے باوجود اس کے کہ ان کا مقام بہت بلند ہے اور رسول اللہ ﷺ نے ہجرت کے وقت ان ہی کے ہاں قیام فرمایا تھا۔“
حدَّثَناه (1) إبراهيم بن بِسْطامَ الزَّعفَراني، حَدَّثَنَا سعيد بن سفيان الجَحْدَري، حَدَّثَنَا شُعبة، عن أشعثَ بن أبي الشَّعثاء قال: سمعت أَبي يحدِّث قال: قَدِمتُ المدينةَ فإذا أبو أيوب يحدِّث عن أبي هريرة، فقلت: تحدِّثُ عن أبي هريرة وأنت صاحبُ مَنزِلةِ (2) رسول الله؟! فقال: لأَنْ أحدِّثَ عن أبي هريرة أحبُّ إليَّ من أن أحدِّثَ عن النَّبِيّ ﷺ (3). قال الإمام أبو بكر: فمِن حِرْصِ أبي هريرة على العِلم روايتُه عمَّن كان أقلَّ روايةً عن النَّبِيّ ﷺ منه، حرصًا على العلم، فقد روى عن سهل بن سعدٍ الساعديّ:
حافظ طلحہ بابر
اشعث بن ابوالشعثاء بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کو یہ کہتے ہوئے سنا: ”میں مدینہ آیا تو دیکھا کہ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کر رہے ہیں، تو میں نے کہا: آپ ابوہریرہ سے روایت بیان کر رہے ہیں حالانکہ آپ رسول اللہ ﷺ کے میزبان ہونے کا مقام رکھتے ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا: ”میرے لیے ابوہریرہ کے واسطے سے حدیث بیان کرنا اس سے زیادہ پسندیدہ ہے کہ میں خود براہِ راست نبی کریم ﷺ سے بیان کروں۔“ امام ابوبکر کہتے ہیں: ”سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا علم کے ساتھ یہ حرص ہی تھا کہ وہ حصولِ علم کی خاطر ان لوگوں سے بھی روایت کر لیتے تھے جنہوں نے نبی کریم ﷺ سے ان کی نسبت کم احادیث سنی تھیں، چنانچہ انہوں نے سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے بھی روایت کی ہے۔“