حدیث نمبر: 6297
حَدَّثَنَا أحمد بن كامل بن خَلَف القاضي، حَدَّثَنَا عبد الله بن رَوْح المدائني، حَدَّثَنَا شَبَابةُ بن سَوّار، حَدَّثَنَا عاصم بن محمد، عن أبيه قال: رأيتُ أبا هريرة يَخرُج يومَ الجمعة فيَقبِضُ على رُمَّانتَي المِنبَر قائمًا، ويقول: حَدَّثَنَا أبو القاسم رسولُ الله الصادقُ المصدوقُ ﷺ، فلا يزالُ يحدِّث حتَّى إذا سَمِعَ فَتْحَ بابِ المقصورة لخروج الإمام للصلاة جَلَسَ (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. قد تحرَّيتُ الابتداءَ من فضائل أبي هريرة لحفظِه لحديث المصطفى ﷺ، وشهادةِ الصحابة والتابعين له بذلك، فإنَّ كلَّ مَن طَلَبَ حفظَ الحديث من أول الإسلام وإلى عصرِنا هذا فإنَّهم من أتباعِه وشِيعتِه، إذْ هو أوّلُهم وأحقُّهم باسم الحِفْظ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6173 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

عاصم بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: ”میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ جمعہ کے دن نکلتے اور منبر کے دونوں دستوں کو پکڑ کر کھڑے ہو جاتے اور فرماتے: ”ہم سے ابوالقاسم، رسول اللہ ﷺ نے جو کہ سچے اور جن کی تصدیق کی گئی ہے، حدیث بیان فرمائی،“ پھر وہ مسلسل احادیث بیان کرتے رہتے یہاں تک کہ جب وہ امام کے نماز کے لیے نکلنے کی خاطر مخصوص کمرے کا دروازہ کھلنے کی آواز سنتے تو بیٹھ جاتے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے فضائل کی ابتدا نبی مصطفی ﷺ کی احادیث کے لیے ان کے حفظ اور صحابہ و تابعین کی اس پر گواہی سے کرنے کا ارادہ کیا ہے، کیونکہ اسلام کی ابتدا سے لے کر ہمارے اس دور تک جس نے بھی حفظِ حدیث کا ارادہ کیا وہ ان ہی کے نقشِ قدم پر چلنے والا ہے، کیونکہ وہ حفظ کے معاملے میں سب سے پہلے اور اس نام کے سب سے زیادہ حقدار ہیں۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6297
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،وقد سلف برقم (372) من طريق أحمد بن يونس عن عاصم بن محمد بن زيد.» [ترقيم الرساله 6297] [ترقيم الشركة 6230] [ترقيم العلميه 6173]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح. وقد سلف برقم (372) من طريق أحمد بن يونس عن عاصم بن محمد بن زيد.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے اور یہ پہلے رقم (372) پر گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6297 سے ماخوذ ہے۔