کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: ابو ہریرہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سب سے زیادہ حافظے والے تھے
حَدَّثَنَا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حَدَّثَنَا معاذ بن المثنَّى العَنبَري، حَدَّثَنَا يحيى بن مَعِين، حَدَّثَنَا وَكيع، عن الأعمش، عن أبي صالح قال: كان أبو هريرة من أحفظِ أصحابِ رسول الله ﷺ (1).
حافظ طلحہ بابر
ابو صالح بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سب سے زیادہ احادیث یاد رکھنے والوں میں سے تھے۔
أخبرني بكر بن محمد الصَّيرَفي بمَرْوٍ، حَدَّثَنَا أحمد بن سعيد الجَمّال، حَدَّثَنَا أبو رَبِيعة فَهْد بن عَوف، حَدَّثَنَا عبد العزيز بن المختار، عن عبد الله الداناجِ قال: أنبأني أبو رافع قال: سمعت أبا هريرة يقول: حَفِظتُ من حديث رسول الله ﷺ أحاديثَ ما حدَّثتُكم بها، ولو حدَّثتُكم بحديثٍ منها لرَجمتُموني بالحجارة (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6162 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6162 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
ابو رافع بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”میں نے رسول اللہ ﷺ کی احادیث میں سے ایسی باتیں بھی حفظ کی ہیں جو میں نے تمہیں بیان نہیں کیں، اور اگر میں ان میں سے ایک بھی بات تمہیں بتا دوں تو تم مجھے پتھروں سے سنگسار کر دو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حَدَّثَنَا الحسين بن الفضل البَجَلي، حَدَّثَنَا هَوْذة بن خَليفة، حَدَّثَنَا عَوف، عن سعيد بن أبي الحسن قال: لم يكن أَحدٌ من أصحاب النَّبِيّ ﷺ أكثرَ حديثًا عنه من أبي هريرة، وإنَّ مروانَ بَعَثَه على المدينة وأراد حديثَه، فقال: ارْوِ كما رَوَينا، فلما أَبى عليه تَغفَّلَه فأَقعَدَ له كاتبًا، فجعل أبو هريرة يحدِّث ويكتب الكاتبُ حتَّى استَفرَغَ حديثَه أجمعَ، فقال مروان: تَعلمُ أنَّا قد كتبنا حديثَك أجمعَ؟ قال: أوَقَد فعلتُم، وإنْ تُطِيعُني (1) تَمحُهُ؟ قال: فمَحَاه (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6163 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6163 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سعید بن ابوالحسن بیان کرتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کوئی بھی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے زیادہ احادیث بیان کرنے والا نہیں تھا، مروان نے انہیں مدینہ کا گورنر مقرر کیا اور ان کی احادیث (تحریر میں لانا) چاہیں، تو مروان نے کہا: ”آپ ہمیں ویسے ہی حدیث سنائیں جیسے پہلے سنائی تھیں،“ جب انہوں نے (لکھوانے سے) انکار کیا تو مروان نے انہیں غافل کر کے (خفیہ طور پر) ایک کاتب بٹھا دیا، پس سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ احادیث بیان کرتے رہے اور کاتب انہیں لکھتا رہا یہاں تک کہ ان کی تمام احادیث مکمل ہوگئیں، پھر مروان نے کہا: ”کیا آپ جانتے ہیں کہ ہم نے آپ کی تمام احادیث لکھ لی ہیں؟“ انہوں نے پوچھا: ”کیا واقعی تم نے ایسا کیا ہے؟ اگر تم میری بات مانو تو اسے مٹا دو،“ راوی کہتے ہیں: پس مروان نے اسے مٹا دیا۔
حدَّثَناه أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا إبراهيم بن سليمان البُرُلُّسي (3)، حَدَّثَنَا سليمان بن حَرْب، حَدَّثَنَا حمّاد بن زيد، حَدَّثَنَا عمرو بن عُبيد، حَدَّثَنَا أبو الزُّعَيزِعة كاتبُ مروان بن الحَكَم: أنَّ مروانَ دعا أبا هريرة، فأقعَدَني خلفَ السَّرير، وجعل يسألُه وجعلتُ أكتب، حتَّى إذا كان عندَ رأس الحَوْل دعا به فأقعَدَه وراءَ الحِجَاب، فجعل يسألُه عن ذلك، فما زادَ ولا نقصَ، ولا قدَّمَ ولا أخَّر (4).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6164 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6164 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
مروان بن حکم کے کاتب ابوالزعیزعہ بیان کرتے ہیں کہ مروان نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو بلایا اور مجھے تخت کے پیچھے بٹھا دیا، مروان ان سے سوالات کرنے لگا اور میں لکھتا رہا، یہاں تک کہ جب ایک سال گزر گیا تو مروان نے انہیں دوبارہ بلایا اور پردے کے پیچھے بٹھا دیا، پھر ان سے وہی سوالات دوبارہ پوچھے، تو انہوں نے (جواب میں) نہ کچھ زیادہ کیا نہ کم، اور نہ ہی الفاظ کو آگے پیچھے کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني عبد الله بن محمد بن موسى، حَدَّثَنَا محمد بن أيوب، أخبرنا يحيى بن المغيرة السَّعْدي، حَدَّثَنَا جَرِير، عن الأعمش، عن أبي وائل، عن حُذَيفة قال: قال رجل لابن عمر: إنَّ أبا هريرة يُكثِرُ الحديثَ عن رسول الله ﷺ، فقال ابن عمر: أُعِيذُك بالله أن تكونَ في شكٍّ مما يجيءُ به، ولكنه اجتَرأَ وجَبُنَّا (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6165 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6165 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: ”ابوہریرہ رسول اللہ ﷺ سے بہت زیادہ احادیث بیان کرتے ہیں،“ تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”میں تمہیں اللہ کی پناہ میں دیتا ہوں کہ تم اس کلام کے بارے میں کسی شک میں مبتلا ہو جاؤ جو وہ (نبی ﷺ کی طرف سے) لائے ہیں، اصل بات یہ ہے کہ وہ (بیان کرنے میں) دلیر تھے اور ہم ہچکچاتے تھے۔“