المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ أَحْفَظَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ باب: ابو ہریرہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سب سے زیادہ حافظے والے تھے
حدیث نمبر: 6289
أخبرني عبد الله بن محمد بن موسى، حَدَّثَنَا محمد بن أيوب، أخبرنا يحيى بن المغيرة السَّعْدي، حَدَّثَنَا جَرِير، عن الأعمش، عن أبي وائل، عن حُذَيفة قال: قال رجل لابن عمر: إنَّ أبا هريرة يُكثِرُ الحديثَ عن رسول الله ﷺ، فقال ابن عمر: أُعِيذُك بالله أن تكونَ في شكٍّ مما يجيءُ به، ولكنه اجتَرأَ وجَبُنَّا (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6165 - سكت عنه الذهبي في التلخيصحافظ طلحہ بابر
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: ”ابوہریرہ رسول اللہ ﷺ سے بہت زیادہ احادیث بیان کرتے ہیں،“ تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”میں تمہیں اللہ کی پناہ میں دیتا ہوں کہ تم اس کلام کے بارے میں کسی شک میں مبتلا ہو جاؤ جو وہ (نبی ﷺ کی طرف سے) لائے ہیں، اصل بات یہ ہے کہ وہ (بیان کرنے میں) دلیر تھے اور ہم ہچکچاتے تھے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) رجاله ثقات. محمد بن أيوب هو ابن الضُّريس، وجرير: هو ابن عبد الحميد، وأبو وائل: هو شقيق بن سلمة، وحذيفة: هو ابن اليمان، ويغلب على الظن أن يكون ذكرُ حذيفة فيه مزيدًا على سبيل الوهم - كما قال المعلمي اليماني في "الأنوار الكاشفة" ص 165 - ولأبي وائل رواية وسماع عن عبد الله بن عمر، والله أعلم.
درجۂ حدیث: اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔
فنی نکتہ / علّت: علامہ معلمی یمانی کے مطابق اس سند میں حضرت حذیفہ کا ذکر غالباً وہم ہے، کیونکہ ابو وائل کا سماع حضرت عبد اللہ بن عمر سے ثابت ہے۔
ناموں کی تحقیق: محمد بن ایوب سے مراد ابن الضریس اور جریر سے مراد ابن عبد الحمید ہیں۔
وهذا الخبر تفرَّد به بهذا الإسناد المصنّف، وقد رواه عبد الواحد بن زياد عن الأعمش عن أبي صالح في حديث رواه عن أبي هريرة عن النَّبِيّ ﷺ في الاضطجاع بعد ركعتي الفجر، فبلغ ذلك ابنَ عمر فقال: أكثرَ أبو هريرة على نفسه، قال: فقيل لابن عمر: هل تنكر شيئًا ممّا يقول؟ قال: لا، ولكنه اجترأ وجَبُنّا. أخرجه أبو داود (1261) وابن حبان (2468). ورجاله ثقات.
تفصیلِ روایت: مصنف اس خاص سند کے ساتھ اس خبر کے بیان میں منفرد ہیں۔ اس کا ایک حصہ فجر کی دو سنتوں کے بعد لیٹنے کے متعلق ہے، جس پر ابن عمر نے فرمایا تھا: "ابو ہریرہ نے خود پر بوجھ زیادہ کر لیا ہے"۔
اہم نکتہ: جب ابن عمر سے پوچھا گیا کہ کیا آپ ان کی بات کا انکار کرتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: "نہیں، لیکن وہ (بیان کرنے میں) جرات کر گئے اور ہم بزدل (محتاط) رہے"۔ (ابو داود: 1261، ابن حبان: 2468)۔
درجۂ حدیث: اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔
فنی نکتہ / علّت: علامہ معلمی یمانی کے مطابق اس سند میں حضرت حذیفہ کا ذکر غالباً وہم ہے، کیونکہ ابو وائل کا سماع حضرت عبد اللہ بن عمر سے ثابت ہے۔
ناموں کی تحقیق: محمد بن ایوب سے مراد ابن الضریس اور جریر سے مراد ابن عبد الحمید ہیں۔
وهذا الخبر تفرَّد به بهذا الإسناد المصنّف، وقد رواه عبد الواحد بن زياد عن الأعمش عن أبي صالح في حديث رواه عن أبي هريرة عن النَّبِيّ ﷺ في الاضطجاع بعد ركعتي الفجر، فبلغ ذلك ابنَ عمر فقال: أكثرَ أبو هريرة على نفسه، قال: فقيل لابن عمر: هل تنكر شيئًا ممّا يقول؟ قال: لا، ولكنه اجترأ وجَبُنّا. أخرجه أبو داود (1261) وابن حبان (2468). ورجاله ثقات.
تفصیلِ روایت: مصنف اس خاص سند کے ساتھ اس خبر کے بیان میں منفرد ہیں۔ اس کا ایک حصہ فجر کی دو سنتوں کے بعد لیٹنے کے متعلق ہے، جس پر ابن عمر نے فرمایا تھا: "ابو ہریرہ نے خود پر بوجھ زیادہ کر لیا ہے"۔
اہم نکتہ: جب ابن عمر سے پوچھا گیا کہ کیا آپ ان کی بات کا انکار کرتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: "نہیں، لیکن وہ (بیان کرنے میں) جرات کر گئے اور ہم بزدل (محتاط) رہے"۔ (ابو داود: 1261، ابن حبان: 2468)۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6289 سے ماخوذ ہے۔